Showing posts with label Philosophy. Show all posts
Showing posts with label Philosophy. Show all posts

Saturday, 9 May 2026

Zen & the Art of Motorcycle Maintenance-1---Urdu


 انگریزی اقتباسات کا اردو ترجمہ  

Zen and the Art of Motorcycle Maintenance

by 

Robert M. Pirsig





باب دوئم 


میں اپنے دانتوں سے ایک دستانہ اتارتا ہوں، ہاتھ نیچے لے جا کر انجن کے ایلومینیم والے سائیڈ کور کو چھوتا ہوں۔ تپش بالکل ٹھیک ہے۔ اتنی گرمی ضرور ہے کہ وہاں ہاتھ ٹکایا نہ جا سکے، لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں کہ ہاتھ جل جائے۔ وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

اس طرح کے ہوا سے ٹھنڈے ہونے والے انجن میں، حد سے زیادہ تپش اسے 'جام' (seizure) کر سکتی ہے۔ اس مشین کے ساتھ ایسا ایک بار نہیں، بلکہ تین بار ہو چکا ہے۔ اگرچہ اب یہ بالکل ٹھیک لگتی ہے، لیکن میں وقتاً فوقتاً اس کا معائنہ بالکل ویسے ہی کرتا ہوں جیسے کوئی دل کے دورے کے مریض کا حال دیکھتا ہے۔

جب انجن جام ہوتا ہے، تو حد سے زیادہ گرمی کی وجہ سے پسٹن پھیل کر سلنڈر کی دیواروں کے لیے بہت بڑے ہو جاتے ہیں، انہیں جکڑ لیتے ہیں اور کبھی کبھار تو پگھل کر ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ اس سے انجن اور پچھلا پہیہ رک جاتا ہے اور پوری موٹر سائیکل پھسلنا (skid) شروع کر دیتی ہے۔ پہلی بار جب یہ انجن جام ہوا، تو میرا سر اگلے پہیے کی طرف جا گرا اور پیچھے بیٹھا مسافر تقریباً مجھ پر ہی آ چڑھا۔ تقریباً تیس کی رفتار پر پہنچ کر انجن دوبارہ کھل گیا اور چلنے لگا، لیکن میں نے سڑک کنارے بائیک روک دی تاکہ دیکھوں کہ خرابی کیا ہے۔ میرے ساتھی مسافر کو کچھ اور نہ سوجھا تو بس یہی کہا، "تم نے ایسا کیوں کیا؟"

Thursday, 19 June 2025

شفعہ: ایک چلتا پھرتا مردہ قانون

 

 

شفعہ: ایک چلتا پھرتا مردہ قانون

از

ٹیپو سلمان مخدوم

(انگریزی سے ترجمہ)


 

ہم کون ہیں؟

ہم مردہ نہیں ہیں، لیکن میرے اس آزاد خیال عقیدے پر بہت سے لوگ سنجیدگی سے بحث کرتے ہیں۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ہم بے جان مادّہ ہیں، حیاتیاتی طور پر نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی لحاظ سے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک زندہ ثقافت کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ جوش و خروش سے ہم آہنگ ہوتی ہے، اور ایک زندہ شعور ہمیشہ بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ پروان چڑھتا ہے اور اسی کے مطابق نئے خیالات، نظریات اور عالمی نظریات پیدا کرتا ہے۔ اور یہ کہ ہم میں زندہ ہونے کی یہ لازمی اہلیت یقیناً نہیں ہے۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم مردہ ہیں۔

دولت اور نظریہ Thomas Piketty (Book Chapter)

 

CAPITAL AND IDEOLOGY

by

Thomas Piketty

Introduction



انگریزی سے اردو


تعارف-آسان زبان میں

ہر انسانی معاشرے کو یہ جواز پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس دوسروں سے زیادہ کیوں ہے۔ اگر وہ ان اختلافات کی کوئی معقول وجہ نہیں تلاش کر سکتے تو پورا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ گرنے کے خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ لہٰذا، تاریخ کے ہر دور میں، معاشروں نے موجودہ عدم مساوات کو منصفانہ ظاہر کرنے یا یہ دلیل دینے کے لیے کہ بعض عدم مساوات کا کیوں وجود ہونا چاہیے، مختلف متضاد خیالات اور نظریات کو پروان چڑھایا ہے۔ پھر یہ خیالات مخصوص اقتصادی، سماجی اور سیاسی قواعد کو جنم دیتے ہیں جنہیں لوگ اپنے معاشرے کو سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان مختلف خیالات کے تصادم سے—ایک ایسا تصادم جو بیک وقت اقتصادی، سماجی اور سیاسی ہوتا ہے—ایک غالب نظریات کا مجموعہ ابھرتا ہے جو عدم مساوات کے موجودہ نظام کو تقویت دیتا ہے۔

دولت کی تقسیم Thomas Piketty (Book Chapter)

 

 

CAPITAL IN THE TWENTY-FIRST CENTURY

By

Thomas Piketty

 

Introduction

 

 


انگریزی سے اردو

تعارف: دولت کی تقسیم پر بڑی بحث  (آسان زبان میں)

فرانسیسی "اعلانِ حقوقِ انسانی" جو 1789 میں ہوا تھا، یہ کہتا ہے کہ سماجی فرق تب ہی ہونا چاہیے جب اس سے سب کو فائدہ ہو۔ یہ ہمیں ایک بہت بڑی، جاری بحث کی طرف لے جاتا ہے: معاشرے میں دولت کیسے تقسیم ہوتی ہے؟

ایک لمبے عرصے سے لوگ اس پر بحث کرتے رہے ہیں۔ کیا 19ویں صدی کے کارل مارکس کا یہ خیال درست تھا کہ نجی دولت جمع ہونے سے قدرتی طور پر دولت چند ہی ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے؟ یا 20ویں صدی کے سائمن کزنیٹس سچ کے زیادہ قریب تھے، یہ تجویز کرتے ہوئے کہ اقتصادی ترقی، مقابلہ، اور نئی ٹیکنالوجیز بالآخر عدم مساوات کو کم کرتی ہیں اور طبقات کے درمیان زیادہ ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں؟

بارٹر کا افسانہ (The Myth of Barter) DAVID GRAEBER (Book Chapter)

 

DEBT: THE FIRST 5,000 YEARS

By

DAVID GRAEBER

 

Ø Winner of 2012 Bread and Roses Award for Radical Publishing,

 

Ø Winner of 2012 Gregory Bateson book prize, awarded by the Society for Cultural Anthropology

 

.Chapter-2

The Myth of Barter



انگریزی سے اردو


باٹر کا افسانہ (The Myth of Barter) آسان زبان میں


اس کتاب کا دوسرا باب، جس کا عنوان "باٹر کا افسانہ" ہے، اس عام خیال کو چیلنج کرتا ہے کہ پیسہ اور قرض کیسے وجود میں آئے۔ جیسا کہ ایچ ایل مینکن نے ذہانت سے کہا، اکثر ایک پیچیدہ سوال کا سب سے آسان جواب غلط ہوتا ہے۔

مصنف سب سے پہلے کسی کے لیے محض احساسِ ذمہ داری اور حقیقی قرض میں فرق واضح کرتے ہیں۔ جواب سیدھا ہے: پیسہ۔ قرض ایک مخصوص رقم ہوتی ہے جو آپ پر واجب الادا ہوتی ہے، اور اس رقم کو صحیح طریقے سے ناپنے کے لیے آپ کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Saturday, 27 February 2021

ਸਾਇੰਸ ਬਿਨਾ ਗਿਆਨ ਹੋ ਸਕਦਾ?

 ਸਾਇੰਸ ਬਿਨਾ ਗਿਆਨ ਹੋ ਸਕਦਾ?

ਲੇਖਕ

ਮਖ਼ਦੂਮ ਟੀਪੂ ਸਲਮਾਨ



ਅਜ ਕਲ ਸਾਇੰਸ ਦਾਨਾਂ ਤੇ ਕਹਾਣੀ ਕਾਰਾਂ ਵਿਚ ਬੜਾ ਯੁੱਧ ਪਿਆ ਚਲਦਾ ਏ। ਲਿਖਾਰੀ ਕਹਿੰਦੇ ਸਾਇੰਸ ਬੰਦੇ ਨੂੰ ਬੰਦਾ ਨਹੀਂ ਮਸ਼ੀਨ ਸਮਝਦੀ ਏ। ਨਾ ਉਹ ਜਜ਼ਬਿਆਂ ਦਾ ਕੋਈ ਭਾਰ ਲੈਂਦੀ ਏ, ਨਾ ਹੀ ਇਨਸਾਨੀ ਰਿਸ਼ਤਿਆਂ ਤੇ ਟ੍ਰੈਡਿਸ਼ਨਜ਼ ਨੂੰ ਕੁਝ ਸਮਝਦੀ ਏ। ਸਾਇੰਸ ਇਨਸਾਨ ਨੂੰ ਹੀ ਨਹੀਂ ਸਗੋਂ ਸਾਰੀ ਦੁਨੀਆਂ ਨੂੰ ਹੀ ਤਬਾਹੀ ਵਲ ਧਕੇਲੀ ਜਾਂਦੀ ਏ।

Wednesday, 24 February 2021

ਸੋਹਣੀ ਕਿਤਾਬ: ਜ਼ੈੱਨ ਐਂਡ ਦਾ ਆਰ੍ਟ ਔਫ਼ ਮੋਟਰ ਸਾਈਕਲ ਮੈਂਟੇਨੈਂਸ

 Zen and the Art of Motorcycle Maintenance by Robert M. Pirsig

ਜ਼ੈੱਨ ਐਂਡ ਦਾ ਆਰ੍ਟ ਔਫ਼ ਮੋਟਰ ਸਾਈਕਲ ਮੈਂਟੇਨੈਂਸ

ਲੇਖਕ

ਰੌਬਰ੍ਟ ਐੱਮ ਪਰਸਿਗ



ਇਹ ਇਕ ਫ਼ਿਲੌਸੋਫ਼ੀਕਲ ਨਾਵਲ ਏ ਜਹਿੜਾ ਸੱਤਰ ਦੇ ਦਹਾਕੇ ਵਿਚ ਛੱਪਿਆ ਤੇ ਯੌਰਪ ਅਮਰੀਕਾ ਵਿਚ ਕਿੰਨੇ ਮਹੀਨੇ ਬੈਸ੍ਟ ਸੈਲਰ ਰਿਹਾ।

 ਬੀਬੀਸੀ ਨੇ ਇਹਨੂੰ ਫ਼ੀਲੌਸੋਫ਼ੀ ਦੀ ਦੁਨੀਆ ਵਿਚ ਸਭ ਤੋਂ ਵੱਧ ਪੜ੍ਹੀ ਜਾਣ ਵਾਲੀ ਕਿਤਾਬ ਆਖਿਆ ਏ।

Monday, 15 October 2018

ماں بولی۔ پنجابی

(آن آلی کتاب توں اِک باب)
ماں بولی
 لیکھک
ٹیپو سلمان مخدوم

اسُو تے کتّے دا موسم، جینہُوں اُردُو وِچ خِزاں تے انگریزی اِچ فَول کیہندے آں، اوہناں ای ودھیا ہوندا اے جیہناں چِتر تے وِساکھ دا ہوندا اے، جیہنُوں اُردُو اِچ بہار تے انگریزی اِچ سپرِنگ کیہی دا اے۔ سخت موسم بدل جاندا اے، درجائے حرارت سوکھا ہو جاندا اے تے سُورج دی روشنی ہولی ہو جاندی اے جِستوں ہر شے دا رنگ نِکھر آندا اے۔ طبیعت اِچ خُشی جیہی وڑ آوندی اے۔ ہر شے چنگی چنگی لگن لگ پیندی اے۔ پنجاب دی رِیت اے کہ جدوں وی موسم بدلدا اے، اسی میلا ٹھیلا لا کے نچدے گاؤندے آں۔ پنجاب دِیاں رِیتاں پنجاب دی بھوئیں تو پُنگردِیاں نیں کیُونجے ایہہ ایتھوں دے موسماں، رُکھاں، جنوراں، دریاواں تے مٹّی نال جُڑِیاں نیں۔

Wednesday, 30 November 2016

قانون آخر ہے کس چڑیا کا نام؟ - اصول قانون

از ٹیپو سلمان مخدوم



کہا جاتا ہے کہ سیاست قانون کی ماں ہے۔ یہ بات قانون کی تضحیک کے لیے نہیں کہی جاتی بلکہ ایک اٹل حقیقت کا بیان ہے۔ دراصل  قانون کا احترام کرنے والے معاشروں  میں تمام اہم معاشرتی فیصلے لوگوں  کی اکثریت سے کیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے چھوٹے چھوٹے  معاشروں  میں لوگ  مل جل کر کر لیتے ہیں جبکہ بڑے معاشروں میں ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا نمائندہ مجلس بنا کر یہ فیصلےاس مجلس میں عوام کی جانب   سے کر لیے جاتے ہیں۔  مثال کے طور پر اگر ایک معاشرہ یہ چاہے کہ ان کے ملک میں قاتلوں کو سزاےَ موت دی جاےَ تو وہاں پر انتجابات میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں درج کریں گی کہ آیا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد سزائے موت کا قانون بنایئں گی یا نہیں۔ معاشرہ اس مثال میں سزائے موت کے حق میں ہونے والی جماعت کو چنے گا۔ چنانچہ نمائندہ مجلس میں آ کر یہ جماعت  سزائے موت کے حق میں  قانون بنائے گی۔

Wednesday, 27 July 2016

فیصلے، حقائق اور اقدار - اصول قانون





از
ٹیپو سلمان مخدوم


Isaiah Berlin (بولنے میں: Isaiah  اس-آ-ای-آہ , Berlin برلن ) روسی نژاد برطانوی فلسفی تھا جو 1997 میں فوت ہوا. مارکسی فلسفہ، آزادی اور باہمی متضاد اقدار برلن کے خاص مضامین تھے.



حقائق (Facts) وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم اپنے پانچ حواس خمسہ یعنی آنکھ، ناک،  کان، زبان یا جلد سے پرکھ سکتے ہیں.

Tuesday, 1 December 2015

Archimedes, The Great Mathematician


Archimedes  (pronounce: Ar-ka-mi-dees;  آر - کا - می - ڈیز
287 BC to 212 BC

Sunday, 12 July 2015

Pimpy Pakistan

By Tipu Salman Makhdoom 





Pimp in our culture is a dishonorable person. A person without essential values.

Pimp is a person who gives priority to his comfort over values.

Sunday, 5 July 2015

We Are Mice of Shah Dola !





ہم دولے شاہ کے چوہے ہیں 

We are rats of the saint "Shah Dola". Practically this means that we are mentally retarded. 

Saturday, 27 June 2015

Nazi Germany & Jehadi Pakistan!



By Tipu Salman Makhdoom


Brainwashing is a technique of influencing mind. When an assertion is repeated again and again as a gospel truth without allowing difference of opinion, mind gets numb after a while and takes the assertion as truth. And if an organized group exercises this technique on a large group or society, a hysteria occurs. But the best, actually the worst, results occur when this technique is applied on children.


Tuesday, 16 June 2015

Students! Flunk Exams!



by Tipu Salman Makhdoom



Your academic degrees and medals are going to dishonor you in the real world. Unless you stop grabbing good grades. I am not kidding.

Monday, 15 June 2015

We The Donkey Drivers



By Tipu Salman Makhdoom


We do not drive like reasonable drivers, we drive like crazy creatures.

We don't drive cars like machines, we drive cars like donkey carts. 



Friday, 12 June 2015

Death Penalty; A Pakistani Perspective







CAN LEGAL FICTION OVERCOME RELIGIOUS AND CONSTITUTIONAL LOCKS?



DEATH PENALTY: A PAKISTANI PERSPECTIVE


BY

Tipu Salman Makhdoom*





Abstract:
Death Penalty is not really an issue in Pakistan. Mostly because it’s an ideological state, Constitutionally having a religion which clearly provides for death penalty. In addition to this ideological check, there is also a Constitutional check. Constitution of Pakistan states that all laws need to confirm to Islam and Supreme Court of Pakistan says that among others, this part of Constitution constitutes the ‘Basic Structure’ of the Constitution which cannot be amended, even by adopting the procedure that Constitution itself provides for its amendment!
After making a jurisprudential argument in favour of abolition of death penalty, this paper explores the ideological and Constitutional checks in Pakistan legal system locking the death penalty in the system. In the end, an argument is made that in addition to taking the political course, a legal path can be taken to abolish the death penalty in Pakistan, without violating the Constitutional check; legal fiction.


Monday, 8 June 2015

Rohingya Muslims? Shut Up Pakistan!

by Tipu Salman Makhdoom





Rohingya Muslims are ethnically Bengalis. After first Anglo-Burmese war in 1892, British annexed a part of Burma (Myanmar) and encouraged migrations from Bengal to work as farm labourers. And they continued to live there.


Sunday, 7 June 2015

Death of Two Nation Theory!



By Tipu Salman Makhdoom




Pakistan is based on Two Nation Theory

Right and wrong. Right that Pakistan was created on the basis of two nation theory, but wrong that it still exists on it.




Thursday, 4 June 2015

Death: The Most Profitable Business




By Tipu Salman Makhdoom






Which are the most profitable businesses of the world? Neither creative, nor productive nor even entertaining; but the ones related to Death. Lots of it!

Two most profitable industries of the world are weapons and pharmaceuticals. One gets money to give us power of inflicting death on others, while the other takes our money in exchange for avoiding it. And we give a lots and lots of money to both of them, in exchange of lots and lots of deaths; and avoiding it.



The most profitable business of the world is weapons industry. Although the big chunks of profit in it comes from big time weapons, like fighter jets and tanks, etc, their demand increases during the times of wars