از
دِلّی تا پالم
از
ٹیپو
سلمان مخدوم
(پنجابی سے ترجمہ)
1803ء
1803ء کا سال دنیا کی تاریخ
میں ایک عجیب سال تھا۔ یورپ میں نپولین انگریزوں کے ساتھ جنگیں لڑ رہا تھا اور
دنیا کے دوسرے کونے میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے "ماربری بنام میڈیسن"
کے مقدمے میں فیصلہ دیا کہ اگر حکومت آئین کے خلاف کوئی قانون بنائے تو عدالتیں اس
قانون کو رد کر سکتی ہیں۔
یہی وہ سال تھا جس میں دہلی کا لال قلعہ اداس دکھائی دیتا تھا۔ کمزور، لاچار اور بوڑھا۔ اس کی عظیم الشان دیواریں اور عالی شان مینار خزاں کی چمکیلی دھوپ میں بھی پھیکے نظر آتے تھے۔ مرہٹوں نے انگریزوں سے جنگ ہار کر شہنشاہِ ہندوستان کو کمپنی بہادر کی پناہ میں دے دیا تھا اور اب شہنشاہِ ہندوستان کا وظیفہ کمپنی بہادر نے دینا تھا۔ یہ خبر ملنے پر شاہ عالم نے زمرد سے کہا تھا کہ وہ سلجوق وزیرِ اعظم نظام الملک طوسی کی عظیم کتاب "سیاست نامہ" میں سے بادشاہ کو وہ واقعہ سنائے جس میں جنگِ بلخ ہار کر عمر بن لیث نے صرف اتنا کہا تھا کہ "صبح میں امیر تھا، اور شام کو اسیر"۔









