Showing posts with label Jurisprudence. Show all posts
Showing posts with label Jurisprudence. Show all posts

Thursday, 19 June 2025

شفعہ: ایک چلتا پھرتا مردہ قانون

 

 

شفعہ: ایک چلتا پھرتا مردہ قانون

از

ٹیپو سلمان مخدوم

(انگریزی سے ترجمہ)


 

ہم کون ہیں؟

ہم مردہ نہیں ہیں، لیکن میرے اس آزاد خیال عقیدے پر بہت سے لوگ سنجیدگی سے بحث کرتے ہیں۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ہم بے جان مادّہ ہیں، حیاتیاتی طور پر نہیں بلکہ فکری اور ثقافتی لحاظ سے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک زندہ ثقافت کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ جوش و خروش سے ہم آہنگ ہوتی ہے، اور ایک زندہ شعور ہمیشہ بدلتی ہوئی حقیقت کے ساتھ پروان چڑھتا ہے اور اسی کے مطابق نئے خیالات، نظریات اور عالمی نظریات پیدا کرتا ہے۔ اور یہ کہ ہم میں زندہ ہونے کی یہ لازمی اہلیت یقیناً نہیں ہے۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم مردہ ہیں۔

Monday, 29 March 2021

ਅਦਾਲਤਾਂ ਦੀ proceedings ਦੀ ਮਿੱਖ

 ਅਦਾਲਤਾਂ ਦੀ proceedings ਦੀ ਮਿੱਖ

ਲੇਖਕ

ਮਖ਼ਦੂਮ ਟੀਪੂ ਸਲਮਾਨ (ਲਹੌਰ)




Benjamin Nathan Cardozo ਬੈਂਜਾਮਿਨ ਨਾਥਨ ਕੋਰਡੋਵਜ਼ੋ, 1938 - 1880، ਅਮਰੀਕਾ ਦੀ ਸੁਪਰੀਮ ਕੋਰਟ ਦੇ ਯਹੂਦੀ ਜੱਜ ਸਨ। ਯੇਲ ਯੂਨੀਵਰਸਿਟੀ ਵਿਚ ਉਨ੍ਹਾਂ ਨੇ ਲੈਕਚਰ ਦਿੱਤੇ ਜਿਹੜੇ ਨੇਚਰ ਔਫ਼ ਜੁਡੀਸ਼ਲ ਪ੍ਰੋਸੈਸ ਦੇ ਨਾਂ ਤੋਂ ਕਿਤਾਬੀ ਸ਼ਕਲ ਵਿਚ ਛਪੇ ਤੇ ਬਹੁਤ ਮਸ਼ਹੂਰ ਹੋਏ। ਇਸ ਕਿਤਾਬ ਵਿਚ ਉਨ੍ਹਾਂ ਨੇ ਇਸ ਕਾਰਰਿਵਾਈ ਤੇ ਗਲ ਬਾਤ ਕੀਤੀ ਏ ਜਿਹੜਾ ਜੱਜ ਦੀ ਕੁਰਸੀ ਤੇ ਬਹਿ ਕੇ ਜੱਜ ਕਰਦਾ ਏ। ਆਪਣੇ ਇੱਕ ਲੈਕਚਰ ਵਿਚ ਜੱਜ ਸਾਹਿਬ ਕੁਝ ਇਸ ਤਰ੍ਹਾਂ ਫ਼ਰਮਾਂਦੇ ਨੇਂ:

क़ानून की हुक्मरानी

 क़ानून की हुक्मरानी

 लिखारी

मख़दूम टीपू सलमान (लाहौर)




क़ानून की हुक्मरानी किसी भी इन्साफ़ पर खड़े समाज को बनाने के लिए ज़रूरी है। क़ानून की हुक्मरानी का मतलब है कि रियासत में हर काम क़ानून के तहत और क़ानून की मर्ज़ी के मुताबिक़ होगा। हकूमत क़ानून के मुताबिक़ चलेगी और हर फ़ैसला क़ानून के मुताबिक़ होगा। यानी इन्साफ़ का मयार ये होगा कि फ़ैसला क़ानून की मरज़ी से हो। देखने की बात ये है कि ऐसा क्यों और कैसे किया जाता है।

            क़ानून की हुक्मरानी की दो बुनियादी ज़रूरतें होती हैं। क़वानीन का होना और क़वानीन की बरतरी।

Wednesday, 3 January 2018

قانون کا طریق کار- اصول قانون

از
ٹیپو سلمان مخدوم 
اولیور وینڈل ہومز کے  مشہورِ زمانہ مضمون دی پاتھ آف لاء سے   ماخوذ

کچھ ہومز کے بارے میں:
اولیور  وینڈل ہومز جونیئر (۱۸۴۱ سے ۱۹۳۵) بیسویں صدی کے شاید سب سے اہم  امریکی فلسفیٔ قانون تھے۔  اُن کا مضمون  دہ پاتھ آف لاء، جو کہ ۱۸۹۸ میں چھپا، امریکی فلسفۂ قانون میں مرکزی اہمیت کی حامل تحریر سمجھا جاتا ہے۔ اِس تحریر میں ہی ہومز نے پرانےتمام برطانوی نژاد نظریوں سے تعلق توڑ کر نئی جہتوں میں سفر کا آغاز کیا اور اِس طرح سے جدید امریکی فلسفۂ قانون کی بنیاد رکھی۔

Wednesday, 27 September 2017

آخر جمہوری نظام ہی کیوں؟ : اصول قانون

از
ٹیپو سلمان مخدوم


آخر جمہوری نظام ہی کیوں؟ یہ سوال اکثر سننے میں آتا ہے۔ اور سوچ پر بھی مجبور کرتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس نظام کے ذریعے جو بھی گروہ ہم پر حکمران بنتا ہے اس میں بہت سے چور، لٹیرے، جاہل اور بدکردار لوگ شامل ہوتے ہیں۔ جب بھی انتخابات ہوتے ہیں اور جس بھی سیاسی جماعت کی حکومت بنتی ہے ہمیں یہی شکایت ہوتی ہے۔ تو پھر ہم یہ نظام بدل کیوں نہیں دیتے؟

Tuesday, 20 June 2017

ڈوارکن اور عدالتی فیصلے: اصول قانون


از
ٹیپو سلمان مخدوم



رونلڈ ڈوارکن (Ronald Dworkin) اصول قانون کے امریکی پرفیسر تھے جو امریکہ کی ییل اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹیوں میں اصول قانون (Jurisprudence)  پڑھاتے تھے۔ آپ کی وفات 2013 میں ہوئی۔ آپ کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا قانونی فلسفی مانا جاتا ہے۔  مقدموں کے فیصلوں سے متعلق  پرفیسر ڈوارکن نے بہت کچھ کہا ہے جس میں سے چند دلچسپ  خیالات  کا خلاصہ درج  ذیل ہے:


Saturday, 1 April 2017

فیصلوں کے فیصلے- اصول قانون

از
ٹیپو سلمان مخدوم


کومن لاء نظام میں قانون کی تشریح کا حق عدالت کے پاس ہوتا ہے۔ قانون کسی خاص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہیں بنایا جاتا بلکہ  قانون کی کتاب ایسے لکھی جاتی ہے کہ قوانین کو ہر قسم کے حالات میں لاگو کیا جا سکے۔ چنانچہ جب عدالت کے سامنے کوئی مقدمہ آتا ہے تو عدالت نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس مقدمہ کے حالات میں دستیاب قانون کو کس انداز سے لاگو کیا جائے؛ جیسے سختی سے یا نرمی سے، وغیرہ۔

Saturday, 25 March 2017

عدالتی کارروائی کی ماہیت- اصول قانون

از
ٹیپو سلمان مخدوم
Benjamin Nathan Cardozo


بینجامِن ناتھن کورڈوذو، 1880-1938، امریکہ کی سپریم کورٹ کے یہودی جج تھے۔ یئل یونیورسٹی میں انہوں نے لیکچر دیئے جو نیچر آف جوڈیشل پروسیس کے نام سے کتابی شکل میں چھپے اور بہت مشہور ہوئے۔ اس کتاب میں انہوں نے اس کارروائی پر اظہارِ خیال کیا ہے جو منصف کی کرسی پر بیٹھ کر قاضی کیا کرتا ہے۔ اپنے ایک لیکچر میں جج صاحب کچھ اس طرح فرماتے ہیں:

Friday, 24 March 2017

نظریہء خالص قانون-اصول قانون


از
ٹیپو سلمان مخدوم
 
ہانز کیلسن

ہانز کیلسن ۱۸۸۱ سے ۱۹۷۳، آسٹریا کے ایک یہودی وکیل تھے۔ آپ نے آسٹریا کا آئین بھی تحریر کیا اور وہاں کی عدالتِ اعظمیٰ کے جج بھی مقرر ہوئے۔ ۱۹۴۰ میں وہ امریکہ جا کر رہائش پذیر ہو گئے اور مختلف یونیورسٹیوں میں درس و تدریس سے منسلک رہے۔آپ کے خالص نظریہء قانون کا ذکر پاکستان کے متعدد آئینی فیصلوں میں ملتا ہے۔ ان میں سے چند مشہور فیصلے سرکار بنام دوسو   PLD 1958 SC 533   عاصمہ جیلانی بنام حکومتِ پنجاب   PLD 1972 SC 139   اور بیگم نصرت بھٹو بنام  چیف آف آرمی سٹاف   PLD 1977 SC 657    ہیں۔

Monday, 20 March 2017

شہادت کیوں ضروری ہے؟ - اصول قانون


از
ٹیپو سلمان مخدوم


جب دو فریقین  کے درمیان ایک تیسرے فریق نے انصاف کرنا ہو تو انصاف ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور ہوتا نظر آنا بھی۔  عدالت میں بیٹھے قاضی صاحب بہت دفعہ دونوں فریقین کی کہانیاں سن کر ہی سمجھ جاتے ہیں کہ کون سا فریق حق پر ہے اور کونسا فریق جھوٹ بول رہا ہے۔ مگر پھر بھی قاضی صاحبان اپنی سمجھ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے شہادت طلب کرتے ہیں اور شہادت ہی کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔

Monday, 13 March 2017

دہشت گردی اور عدالتی کردار


از
شہزاد اسلم



 آج دہشت گردی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو امریکہ پر دہشتگردی کے خوفناک  سائے جب چھائے تو پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ افغانستان اور پاکستان خصوصی طور پر دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے میدان بن گئے۔ جہاں دہشت گردی نے تمام ممالک کو امتحان میں ڈالا وہاں جمہوری ممالک کے لئے ایک کڑا وقت شروع ہو گیا .

Tuesday, 21 February 2017

قانون اور ادب

از
شہزاد اسلم



انسانی زندگی کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے کے لئیے ادب کے مختلف ذرائع ہمیشہ سے اسلوب کا حصہ رہے ہیں۔ انسانوں کے لطیف جذبات سے لے کر نفسیاتی مسائل تک، تاریخی واقعات، مذھب، سماج، فلسفہ، سائنس، قدرتی حسن بھی ادب کے موضوعات میں شامل ہیں۔ 

Thursday, 2 February 2017

جائیداد، ملکیت اور قبضہ - اصول قانون

از 

ٹیپو سلمان مخدوم





جائیداد کا تصور ملکیت سے جڑا ہوا ہے۔ ملکیت کا مطلب ہے کہ قانون آپ کے چند مخصوص حقوق تسلیم کرتا ہے۔ ان حقوقِ ملکیت میں قبضے کا حق، فائدہ اٹھانے کا حق اور فروخت کرنے کا حق سرِ فہرست ہیں۔ یعنی قانونی طور پر مالک ہونے کا مطلب ہے کہ قانون آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ اپنی مِلک کو اپنے تک مقّید رکھ سکتے ہیں، صرف اور صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور جب چاہے، جس کو چاہے اور جس قیمت پر جی چاہے فروخت کر سکتے ہیں۔ 

Tuesday, 31 January 2017

قانون کی حکمرانی - اصول قانون

از 
ٹیپو سلمان مخدوم





قانون کی حکمرانی کسی بھی انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لئے ناگزیر ہے۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب ہے کہ ریاست میں ہر کام قانون کے تحت اور قانون کی مرضی کا ہو گا۔ نظامِ سلطنت قانون کے مطابق چلے گا۔ اور ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہو گا۔ یعنی انصاف کا معیار یہ ہو گا کہ فیصلہ قانون کی منشا کے مطابق ہو۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں اور کیونکر کیا جاتا ہے؟ 

قانون کی حکمرانی کی دو بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔ قوانین کا وجود اور قوانین کی برتری۔

آئین آخر ہوتا کیا ہے؟ - اصول قانون

از 
ٹیپو سلمان مخدوم




آئین دراصل ریاست کا ڈھانچہ یا نقشہ ہوتا ہے۔ آئین میں ہی درج ہوتا ہے کہ کس طور ریاست میں حکومت تشکیل دی جائے گی اور ریاست کو کون کون سے ادارے کس کس طور چلائیں گے؟  اور یہ بھی کہ ان اداروں میں کون کون سے لوگ کس طور تعینات کیے جائیں گے؟

Wednesday, 30 November 2016

قانون آخر ہے کس چڑیا کا نام؟ - اصول قانون

از ٹیپو سلمان مخدوم



کہا جاتا ہے کہ سیاست قانون کی ماں ہے۔ یہ بات قانون کی تضحیک کے لیے نہیں کہی جاتی بلکہ ایک اٹل حقیقت کا بیان ہے۔ دراصل  قانون کا احترام کرنے والے معاشروں  میں تمام اہم معاشرتی فیصلے لوگوں  کی اکثریت سے کیے جاتے ہیں۔ یہ فیصلے چھوٹے چھوٹے  معاشروں  میں لوگ  مل جل کر کر لیتے ہیں جبکہ بڑے معاشروں میں ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا نمائندہ مجلس بنا کر یہ فیصلےاس مجلس میں عوام کی جانب   سے کر لیے جاتے ہیں۔  مثال کے طور پر اگر ایک معاشرہ یہ چاہے کہ ان کے ملک میں قاتلوں کو سزاےَ موت دی جاےَ تو وہاں پر انتجابات میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں درج کریں گی کہ آیا کہ وہ منتخب ہونے کے بعد سزائے موت کا قانون بنایئں گی یا نہیں۔ معاشرہ اس مثال میں سزائے موت کے حق میں ہونے والی جماعت کو چنے گا۔ چنانچہ نمائندہ مجلس میں آ کر یہ جماعت  سزائے موت کے حق میں  قانون بنائے گی۔

Thursday, 28 July 2016

قانون کی تشریح - اصول قانون

آئینی تشریح کے نظریے 





از
ٹیپو سلمان مخدوم



Ronald Dworkin (بولنے میں: Ronald رو- نلڈ   Dworkin  ڈو-آر- کن ) متوفی فروری 2013 امریکی پروفیسر تھے جو قانون کو اخلاقی قدروں سے پرکھنے کے نظریے کے لئے مشہور تھے. 


ڈوارکن کے مطابق آئین کی تشریح کرتے ہوۓ تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے.

Wednesday, 27 July 2016

فیصلے، حقائق اور اقدار - اصول قانون





از
ٹیپو سلمان مخدوم


Isaiah Berlin (بولنے میں: Isaiah  اس-آ-ای-آہ , Berlin برلن ) روسی نژاد برطانوی فلسفی تھا جو 1997 میں فوت ہوا. مارکسی فلسفہ، آزادی اور باہمی متضاد اقدار برلن کے خاص مضامین تھے.



حقائق (Facts) وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم اپنے پانچ حواس خمسہ یعنی آنکھ، ناک،  کان، زبان یا جلد سے پرکھ سکتے ہیں.

Wednesday, 20 July 2016

کونسے فیصلے عدالتوں میں پیش کئے جایئں ؟ - اصول قانون






از
ٹیپو سلمان مخدوم


دنیا میں اس وقت دو بڑے نظام عدل رائج ہیں : (١) کامن لا یا مشترکہ نظام عدل (Common Law System)، اور (٢) سول لا یا دیوانی نظام عدل (Civil Law System). 

کامن لا کا نظام انگریزوں کا وضح کردہ ہے، جو ہمارے ہاں بھی رائج ہے. اس نظام کے تحت قانون صرف دو ادارے بنا سکتے ہیں، (١) مجلس شوریٰ، اور (٢) اعلی عدالتیں .