انگریزی اقتباسات کا اردو ترجمہ
Zen and the Art of Motorcycle Maintenance
by
Robert M. Pirsig
باب دوئم
میں اپنے دانتوں سے ایک دستانہ اتارتا ہوں، ہاتھ نیچے لے جا کر انجن کے ایلومینیم والے سائیڈ کور کو چھوتا ہوں۔ تپش بالکل ٹھیک ہے۔ اتنی گرمی ضرور ہے کہ وہاں ہاتھ ٹکایا نہ جا سکے، لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں کہ ہاتھ جل جائے۔ وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
اس طرح کے ہوا سے ٹھنڈے ہونے والے انجن میں، حد سے زیادہ تپش اسے 'جام' (seizure) کر سکتی ہے۔ اس مشین کے ساتھ ایسا ایک بار نہیں، بلکہ تین بار ہو چکا ہے۔ اگرچہ اب یہ بالکل ٹھیک لگتی ہے، لیکن میں وقتاً فوقتاً اس کا معائنہ بالکل ویسے ہی کرتا ہوں جیسے کوئی دل کے دورے کے مریض کا حال دیکھتا ہے۔
جب انجن جام ہوتا ہے، تو حد سے زیادہ گرمی کی وجہ سے پسٹن پھیل کر سلنڈر کی دیواروں کے لیے بہت بڑے ہو جاتے ہیں، انہیں جکڑ لیتے ہیں اور کبھی کبھار تو پگھل کر ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ اس سے انجن اور پچھلا پہیہ رک جاتا ہے اور پوری موٹر سائیکل پھسلنا (skid) شروع کر دیتی ہے۔ پہلی بار جب یہ انجن جام ہوا، تو میرا سر اگلے پہیے کی طرف جا گرا اور پیچھے بیٹھا مسافر تقریباً مجھ پر ہی آ چڑھا۔ تقریباً تیس کی رفتار پر پہنچ کر انجن دوبارہ کھل گیا اور چلنے لگا، لیکن میں نے سڑک کنارے بائیک روک دی تاکہ دیکھوں کہ خرابی کیا ہے۔ میرے ساتھی مسافر کو کچھ اور نہ سوجھا تو بس یہی کہا، "تم نے ایسا کیوں کیا؟"
