Saturday, 9 May 2026

Zen & the Art of Motorcycle Maintenance-1---Urdu


 انگریزی اقتباسات کا اردو ترجمہ  

Zen and the Art of Motorcycle Maintenance

by 

Robert M. Pirsig





باب دوئم 


میں اپنے دانتوں سے ایک دستانہ اتارتا ہوں، ہاتھ نیچے لے جا کر انجن کے ایلومینیم والے سائیڈ کور کو چھوتا ہوں۔ تپش بالکل ٹھیک ہے۔ اتنی گرمی ضرور ہے کہ وہاں ہاتھ ٹکایا نہ جا سکے، لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں کہ ہاتھ جل جائے۔ وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

اس طرح کے ہوا سے ٹھنڈے ہونے والے انجن میں، حد سے زیادہ تپش اسے 'جام' (seizure) کر سکتی ہے۔ اس مشین کے ساتھ ایسا ایک بار نہیں، بلکہ تین بار ہو چکا ہے۔ اگرچہ اب یہ بالکل ٹھیک لگتی ہے، لیکن میں وقتاً فوقتاً اس کا معائنہ بالکل ویسے ہی کرتا ہوں جیسے کوئی دل کے دورے کے مریض کا حال دیکھتا ہے۔

جب انجن جام ہوتا ہے، تو حد سے زیادہ گرمی کی وجہ سے پسٹن پھیل کر سلنڈر کی دیواروں کے لیے بہت بڑے ہو جاتے ہیں، انہیں جکڑ لیتے ہیں اور کبھی کبھار تو پگھل کر ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں۔ اس سے انجن اور پچھلا پہیہ رک جاتا ہے اور پوری موٹر سائیکل پھسلنا (skid) شروع کر دیتی ہے۔ پہلی بار جب یہ انجن جام ہوا، تو میرا سر اگلے پہیے کی طرف جا گرا اور پیچھے بیٹھا مسافر تقریباً مجھ پر ہی آ چڑھا۔ تقریباً تیس کی رفتار پر پہنچ کر انجن دوبارہ کھل گیا اور چلنے لگا، لیکن میں نے سڑک کنارے بائیک روک دی تاکہ دیکھوں کہ خرابی کیا ہے۔ میرے ساتھی مسافر کو کچھ اور نہ سوجھا تو بس یہی کہا، "تم نے ایسا کیوں کیا؟"

میں نے بس کندھے اچکائے اور میں بھی اس کی طرح حیران و پریشان کھڑا تماشہ دیکھتا رہا، جبکہ گاڑیاں ہمارے پاس سے تیزی سے گزر رہی تھیں۔ انجن اس قدر گرم تھا کہ اس کے گرد کی ہوا لرزتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اور ہمیں اس سے نکلتی تپش صاف محسوس ہو رہی تھی۔ جب میں نے ایک گیلی انگلی اس پر لگائی تو وہ گرم استری کی طرح 'سیں' کر کے تڑپنے لگی۔ ہم آہستہ آہستہ گھر کی طرف روانہ ہوئے، مگر اب انجن سے ایک نئی کھٹکھٹاہٹ سنائی دے رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ پسٹن اب اپنی جگہ صحیح نہیں بیٹھ رہے اور انجن کو مکمل طور پر کھلوانے (overhaul) کی ضرورت ہے۔

میں اس مشین کو ایک ورکشاپ لے گیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ یہ کام اتنا اہم نہیں کہ میں خود اس کے چکر میں پڑوں۔ یعنی ان تمام پیچیدہ تفصیلات کو سیکھنا، پرزے اور خاص اوزار منگوانا اور ایسے تمام اکتا دینے والے کاموں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے میں نے سوچا کہ کسی اور سے یہ کام کم وقت میں کروا لوں... کچھ کچھ ویسا ہی رویہ جیسا جان کا تھا۔

وہ ورکشاپ ان جگہوں سے بالکل مختلف تھی جو میرے ذہن میں تھیں۔ وہ مکینک، جو کبھی مجھے گھاگ اور منجھے ہوئے تجربہ کار لگا کرتے تھے، اب بچوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ وہاں ریڈیو پورے شور کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ آپس میں ہنسی مذاق اور باتوں میں اتنے مگن تھے کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے میری موجودگی کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ جب آخر کار ان میں سے ایک میرے پاس آیا، تو اس نے پسٹن کی اس مخصوص آواز (slap) کو ڈھنگ سے سنا بھی نہیں اور فوراً بولا، "اوہ ہاں، یہ تو ٹیپٹس (tappets) کا شور ہے۔"

ٹیپٹس؟ مجھے اسی وقت سمجھ جانا چاہیے تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

دو ہفتے بعد میں نے انہیں 140 ڈالر کا بل ادا کیا، انجن کو رواں (break-in) کرنے کے لیے بائیک کو مختلف اور کم رفتار پر احتیاط سے چلایا، اور پھر ایک ہزار میل مکمل ہونے کے بعد اسے پوری رفتار پر دوڑایا۔ تقریباً پچھتر (75) کی رفتار پر انجن دوبارہ جام ہو گیا اور تیس (30) پر پہنچ کر ویسے ہی کھل گیا جیسے پہلے ہوا تھا۔ جب میں اسے واپس لے کر گیا تو انہوں نے الٹا مجھ پر ہی الزام دھر دیا کہ میں نے اسے صحیح طرح رواں نہیں کیا، لیکن کافی بحث و تکرار کے بعد وہ اسے دوبارہ چیک کرنے پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے انجن کی پھر سے مرمت کی اور اس بار خود ہی ہائی اسپیڈ روڈ ٹیسٹ کے لیے باہر لے گئے۔

اس بار انجن ان کے ہاتھ میں جام ہو گیا۔

دو ماہ بعد، جب تیسری بار انجن کی مکمل اوورہالنگ (overhaul) ہو چکی تو انہوں نے سلنڈر تبدیل کیے، کاربوریٹر میں بڑے سائز کے 'مین جیٹ' ڈالے اور ٹائمنگ کو اس لیے پیچھے کر دیا تاکہ انجن جتنا ممکن ہو سکے ٹھنڈا چلے، اور مجھ سے کہا، "اسے تیز مت چلانا۔"

بائیک گریس میں لتھڑی ہوئی تھی اور اسٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ پلگ الگ کیے ہوئے تھے؛ میں نے انہیں جوڑا اور بائیک اسٹارٹ کی، تو اب واقعی ٹیپٹس کا شور آ رہا تھا۔ انہوں نے ان کی ایڈجسٹمنٹ ہی نہیں کی تھی۔ جب میں نے اس طرف اشارہ کیا تو وہ لڑکا ایک 'سلائی رینچ' (adjustable wrench) لے کر آیا، جو صحیح طرح سیٹ نہیں تھا، اور اس نے پلک جھپکتے ہی ایلومینیم کے دونوں ٹیپٹ کورز کے کونے رگڑ کر گول کر دیے اور انہیں بالکل برباد کر دیا۔

اس نے کہا، "امید ہے کہ ہمارے پاس اسٹاک میں ایسے کچھ اور کور بھی پڑے ہوں گے۔"

میں نے (خاموشی سے) سر ہلا دیا۔

وہ ایک ہتھوڑا اور چھینی لے آیا اور انہیں چوٹ لگا کر ڈھیلا کرنے لگا۔ چھینی ایلومینیم کے کور میں سوراخ کرتی ہوئی پار نکل گئی اور میں دیکھ رہا تھا کہ وہ اسے سیدھا انجن کے ہیڈ میں دھنسا رہا ہے۔ اگلی چوٹ پر اس کا نشانہ چوک گیا اور ہتھوڑا چھینی کے بجائے براہِ راست ہیڈ پر جا لگا، جس سے انجن کی تپش خارج کرنے والی دو پتیوں (cooling fins) کا ایک حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔

"بس رہنے دیں،" میں نے بڑی شائستگی سے کہا، حالانکہ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ "بس مجھے نئے کور دے دیں، میں اسے اسی حالت میں لے جاتا ہوں۔"

شور مچاتے ٹیپٹس، برباد شدہ کور اور گریس میں لتھڑی ہوئی مشین کے ساتھ میں وہاں سے جتنی جلدی ہو سکا نکل بھاگا۔ ابھی سڑک پر بیس کی رفتار سے اوپر ہی گیا تھا کہ مجھے ایک شدید تھرتھراہٹ محسوس ہوئی۔ سڑک کے کنارے رک کر دیکھا تو پتا چلا کہ انجن کو جوڑنے والے چار میں سے دو بولٹ غائب تھے اور تیسرے کا نٹ بھی ندارد تھا۔ پورا انجن محض ایک بولٹ کے سہارے لٹکا ہوا تھا۔ 'اوور ہیڈ کیم چین ٹینشنر' کا بولٹ بھی غائب تھا، یعنی کسی بھی صورت ٹیپٹس کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کرنا بالکل فضول ہوتا۔ یہ تو ایک ڈراؤنا خواب تھا۔

جان اپنی بی ایم ڈبلیو (BMW) کو ایسے لوگوں کے سپرد کر دے، یہ سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے، پر میں نے کبھی اس سے یہ بات نہیں کی۔ شاید مجھے کرنی چاہیے۔ کچھ ہفتوں بعد مجھے انجن جام ہونے کی وہ اصل وجہ مل گئی جو کسی بھی وقت دوبارہ اس حادثے کا سبب بن سکتی تھی۔ وہ محض پچیس سینٹ کی ایک چھوٹی سی پن تھی جو انجن کے اندر تیل کی سپلائی کرنے والے نظام میں لگی تھی؛ وہ ٹوٹ چکی تھی اور تیز رفتاری کے دوران تیل کو 'ہیڈ' تک پہنچنے سے روک رہی تھی۔

یہ سوال کہ 'ایسا کیوں ہوا؟' بار بار میرے ذہن میں آتا ہے اور یہی اس 'شوٹاکوا' (Chautauqua) کو پیش کرنے کی ایک بڑی وجہ بن گیا ہے۔ انہوں نے بائیک کا ایسا حشر کیوں کیا؟ یہ جان اور سلویہ جیسے لوگ نہیں تھے جو ٹیکنالوجی سے دور بھاگتے ہوں، بلکہ یہ تو خود ٹیکنالوجی کے ماہر تھے۔ وہ کام کرنے تو بیٹھے لیکن اسے کسی چیمپانزی کی طرح انجام دیا۔ اس میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، اور نہ ہی اس کی کوئی واضح وجہ نظر آتی تھی۔

میں نے اس ورکشاپ، اس بھیانک جگہ کے بارے میں دوبارہ سوچا تاکہ یاد کر سکوں کہ آخر اس لاپرواہی کی وجہ کیا ہو سکتی تھی۔ وہاں چلنے والا ریڈیو ایک اہم اشارہ تھا۔ آپ اپنے کام پر گہرائی سے توجہ نہیں دے سکتے اگر آپ ساتھ میں ریڈیو بھی سن رہے ہوں۔ شاید وہ اپنے کام کو ذہنی محنت کا کام سمجھتے ہی نہیں تھے، بلکہ ان کے نزدیک یہ محض 'رینچ گھمانے' کا نام تھا۔ اور ظاہر ہے، اگر آپ ریڈیو سنتے ہوئے رینچ گھما سکیں، تو کام زیادہ لطف دیتا ہے۔

ان کی رفتار ایک اور اشارہ تھی۔ وہ بڑی جلدی میں کام نپٹا رہے تھے اور بالکل بے دلی سے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے، یہ دیکھے بغیر کہ وہ کر کیا رہے ہیں۔ اس طرح زیادہ پیسے بنتے ہیں... بشرطیکہ آپ یہ سوچنے کے لیے نہ رکیں کہ اس طرح اکثر وقت زیادہ ضائع ہوتا ہے یا نتیجہ خراب نکلتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا اشارہ ان کے چہروں کے تاثرات تھے۔ ان کی وضاحت کرنا مشکل تھا۔ وہ خوش مزاج، دوستانہ اور ملنسار تھے... مگر بالکل بے تعلق۔

وہ کسی تماشائی کی طرح لگتے تھے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ خود وہاں اتفاقاً گھومتے پھرتے آ گئے ہوں اور کسی نے ان کے ہاتھ میں رینچ تھما دیا ہو۔ اپنے کام کے ساتھ ان کی کوئی وابستگی نہیں تھی۔ کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ 'میں ایک مکینک ہوں'۔ شام پانچ بجے یا جب بھی ان کے آٹھ گھنٹے پورے ہوتے، آپ کو پتا ہوتا کہ وہ فوراً کام چھوڑ دیں گے اور پھر اپنے کام کے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کام کے دوران بھی یہی کوشش کر رہے تھے کہ کام کے بارے میں نہ سوچنا پڑے۔

وہ اپنے طریقے سے وہی کچھ کر رہے تھے جو جان اور سلویا کر رہے تھے؛ یعنی ٹیکنالوجی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اس سے کوئی حقیقی واسطہ نہ رکھنا۔ یا یوں کہہ لیں کہ ان کا ٹیکنالوجی سے واسطہ تو تھا، لیکن ان کی اپنی ذات اس سے باہر تھی؛ بالکل الگ تھلگ اور کٹی ہوئی۔ وہ اس میں شامل تو تھے مگر اس طرح نہیں کہ انہیں اس کی کوئی پرواہ ہو۔

ان مکینکوں نے نہ صرف وہ ٹوٹی ہوئی پن نہیں ڈھونڈی، بلکہ یہ بات بھی صاف تھی کہ وہ پن کسی مکینک ہی کے ہاتھوں ٹوٹی تھی جس نے سائیڈ کور پلیٹ کو غلط طریقے سے جوڑا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ بائیک کے پچھلے مالک نے بتایا تھا کہ ایک مکینک کے بقول اس پلیٹ کو لگانا کافی مشکل کام تھا۔ اصل وجہ یہی تھی۔ ورکشاپ مینوئل میں اس بارے میں پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا، لیکن باقیوں کی طرح شاید وہ بھی بہت جلدی میں تھا یا پھر اسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔

کام کے دوران میں اسی لاپرواہی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو مجھے ان کمپیوٹر مینوئلز میں نظر آتی تھی جن کی میں ایڈیٹنگ کر رہا تھا۔ سال کے باقی گیارہ مہینے میرا ذریعہ معاش یہی ٹیکنیکل مینوئلز لکھنا اور ایڈیٹ کرنا ہے، اور میں جانتا تھا کہ وہ غلطیوں، ابہام اور ادھوری باتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان میں معلومات اس حد تک گڈ مڈ ہوتی ہیں کہ کچھ پلے پڑنے کے لیے انہیں کم از کم چھ بار پڑھنا پڑتا ہے۔

لیکن جو بات پہلی بار مجھے شدت سے محسوس ہوئی، وہ ان مینوئلز کا اس 'تماشائی رویے' سے میل کھانا تھا جو میں نے اس ورکشاپ میں دیکھا تھا۔ یہ دراصل 'تماشائیوں والے مینوئلز' تھے۔ ان کا ڈھانچہ ہی ایسا تھا۔ ان کی ہر سطر میں یہ سوچ پوشیدہ تھی کہ: "یہ ایک مشین ہے، جو کائنات کی ہر چیز سے الگ تھلگ اپنے ایک مخصوص وقت اور مقام میں موجود ہے۔ آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس کا آپ سے کوئی واسطہ ہے، سوائے اس کے کہ آپ چند سوئچ دبائیں، وولٹیج چیک کریں یا کسی خرابی کو دیکھ لیں—" بس یہی سب کچھ۔

مشین کے بارے میں ان مکینکوں کا رویہ بھی مینوئل کے رویے جیسا ہی تھا، اور ویسا ہی تھا جیسا بائیک لاتے وقت میرا اپنا رویہ تھا۔ ہم سب محض تماشائی تھے۔ تب مجھے خیال آیا کہ کوئی ایسا مینوئل ہے ہی نہیں جو موٹر سائیکل کی دیکھ بھال کے اصل مقصد اور سب سے اہم پہلو سے بحث کرے۔ اس بات کو کہ آپ جو کر رہے ہیں اس میں آپ کا دل بھی شامل ہونا چاہیے، یا تو غیر اہم سمجھا جاتا ہے یا پھر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ ایسا تو ہوگا ہی۔

اس سفر میں میرا خیال ہے کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے اور اس کی تھوڑی تحقیق کرنی چاہیے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ 'انسان کیا ہے' اور 'انسان کیا کرتا ہے' کے درمیان اس عجیب و غریب دوری میں کیا ہمیں کوئی ایسا سراغ مل سکتا ہے کہ آخر اس بیسویں صدی میں کیا آفت آ گئی ہے۔ میں اس معاملے میں کوئی جلدی نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ عجلت پسندی خود بیسویں صدی کا ایک زہریلا رویہ ہے۔ جب آپ کسی کام میں جلد بازی کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب آپ کو اس کی پرواہ نہیں رہی اور آپ بس اسے نپٹا کر دوسری چیزوں کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔

میں بس اس معاملے کی تہوں تک آہستہ آہستہ، مگر گہری توجہ اور باریک بینی سے پہنچنا چاہتا ہوں—بالکل اسی انداز میں جو اس ٹوٹی ہوئی پن کو ڈھونڈنے سے ذرا پہلے مجھ پر طاری تھا۔ وہ میرا رویہ ہی تھا جس نے اس خرابی کو ڈھونڈ نکالا تھا، اور کچھ نہیں۔


باب سوئم 


جب میں اس طرح کی باتیں کرتا ہوں تو کرس چڑ جاتا ہے، لیکن میرا نہیں خیال کہ اس سے اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔

"وائی ایم سی اے (YMCA) کیمپ میں ایک لڑکا کہتا ہے کہ وہ بھوتوں پر یقین رکھتا ہے۔"

"وہ بس تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا۔"

"نہیں، وہ مذاق نہیں کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ جب لوگوں کو صحیح طرح سے دفنایا نہ جائے، تو ان کی روحیں لوگوں کو ڈرانے کے لیے واپس آتی ہیں۔ وہ واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہے۔"

"وہ بس تمہیں بیوقوف بنا رہا تھا،" میں نے اپنی بات دہرائی۔

"اس کا نام کیا ہے؟" سلویا نے پوچھا۔

"ٹام وائٹ بیئر۔"

جان اور میں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ہم دونوں اچانک ایک ہی نتیجے پر پہنچے تھے۔

"اوہ، یعنی وہ 'ریڈ انڈین' ہے!" اس نے کہا۔

میں ہنس پڑا۔ "میرا خیال ہے اب مجھے اپنی بات تھوڑی واپس لینی پڑے گی،" میں نے کہا۔ "میں یورپی بھوتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔"

"ان میں فرق کیا ہے؟"

جان کا قہقہہ گونجا۔ "اس نے تمہیں لاجواب کر دیا،" اس نے کہا۔

میں نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا، "دیکھو، انڈین لوگوں کا چیزوں کو دیکھنے کا انداز کبھی کبھار مختلف ہوتا ہے، اور میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ بالکل غلط ہیں۔ سائنس ان کی روایات کا حصہ نہیں ہے۔"

"ٹام وائٹ بیئر کا کہنا ہے کہ اس کے امی ابو نے اسے ان سب باتوں پر یقین نہ کرنے کا کہا تھا، لیکن اس کی دادی نے سرگوشی میں بتایا کہ یہ سب سچ ہے، اس لیے وہ ان پر یقین رکھتا ہے۔"

وہ التجا بھری نظروں سے میری طرف دیکھتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کبھی کبھار وہ واقعی چیزوں کو گہرائی سے جاننا چاہتا ہے۔ محض مذاق اڑانا ایک اچھے باپ کا شیوہ نہیں ہے۔ میں نے اپنا موقف بدلتے ہوئے کہا، "بالکل، میں بھی بھوتوں پر یقین رکھتا ہوں۔"

اب جان اور سلویا نے مجھے بڑی عجیب نظروں سے دیکھا۔ میں سمجھ گیا کہ اب جان اتنی آسانی سے نہیں چھوٹے گی اور میں نے ایک لمبی وضاحت کے لیے خود کو تیار کر لیا۔

میں نے کہا، "یہ بالکل فطری بات ہے کہ بھوتوں پر یقین رکھنے والے ان یورپیوں یا قدیم انڈین لوگوں کو جاہل سمجھا جائے۔ سائنسی نقطہ نظر نے باقی تمام نظریات کو اس حد تک مٹا دیا ہے کہ اب وہ سب قدیم اور پسماندہ لگتے ہیں۔ اس لیے اگر آج کوئی بھوتوں یا روحوں کی بات کرے تو اسے جاہل یا شاید خبطی سمجھا جاتا ہے۔ اب ایک ایسی دنیا کا تصور کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے جہاں بھوت واقعی موجود ہو سکتے ہیں۔"

جان نے اثبات میں سر ہلایا اور میں نے اپنی بات جاری رکھی۔

"میری اپنی رائے یہ ہے کہ جدید انسان کی عقل کوئی اتنی برتر نہیں ہے۔ آئی کیو میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ وہ قدیم انڈین اور قرونِ وسطیٰ کے لوگ بھی اتنے ہی ذہین تھے جتنے کہ ہم ہیں، بس ان کی سوچ کا تناظر بالکل مختلف تھا۔ اس مخصوص تناظر میں، بھوت اور روحیں اتنی ہی حقیقت رکھتی تھیں جتنی کہ ایک جدید انسان کے لیے ایٹم، ذرات، فوٹونز اور کوانٹس رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے میں بھوتوں پر یقین رکھتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے، جدید انسان کے پاس بھی اپنے بھوت اور روحیں موجود ہیں۔"

"کیا مطلب؟"

"اوہ، یہ فزکس اور منطق کے قوانین—اعداد کا نظام—اور الجبرے میں ایک مقدار کی جگہ دوسری مقدار رکھنے کا اصول ۔ یہ سب بھوت ہی تو ہیں۔ ہم ان پر اس قدر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں بالکل حقیقت لگنے لگتے ہیں۔"

جان نے کہا، "مجھے تو یہ حقیقت ہی لگتے ہیں۔"

کرس بولا، "میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔"

تو میں نے اپنی بات جاری رکھی۔ "مثال کے طور پر، یہ ماننا بالکل فطری لگتا ہے کہ کششِ ثقل اور اس کا قانون اسحاق نیوٹن سے پہلے بھی موجود تھے۔ یہ سوچنا ہی پاگل پن لگے گا کہ سترہویں صدی تک کششِ ثقل نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی۔"

"ظاہر ہے،" جان نے کہا۔

"تو پھر یہ قانون کب شروع ہوا؟ کیا یہ ہمیشہ سے موجود تھا؟"

جان ماتھے پر بل لائے یہ سوچ رہا تھا کہ آخر میرا رخ کس طرف ہے۔

میں نے کہا، "میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ زمین کے بننے سے پہلے، سورج اور ستاروں کے وجود میں آنے سے پہلے، بلکہ کائنات کی کسی بھی چیز کی شروعات سے پہلے بھی کیا کششِ ثقل کا قانون موجود تھا؟"

"ہاں، کیوں نہیں۔"

"یعنی وہ قانون کہیں موجود تھا؟ حالانکہ اس کا اپنا نہ کوئی مادہ تھا، نہ اپنی کوئی توانائی، نہ وہ کسی کے ذہن میں تھا کیونکہ تب کوئی انسان ہی نہیں تھا، اور نہ وہ خلا میں تھا کیونکہ تب خلا بھی نہیں تھی—وہ کہیں بھی نہیں تھا... کیا پھر بھی یہ قانون موجود تھا؟"

اب جان کچھ تذبذب میں لگ رہا تھا۔

میں نے کہا، "اگر وہ قانون تب بھی موجود تھا، تو سچی بات یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی چیز کو 'ناپید' یا 'لاوجود' ثابت کرنے کے لیے اور کیا کرنا پڑے گا۔ میرے خیال میں کششِ ثقل کا وہ قانون 'عدمِ موجودگی' کے ہر امتحان پر پورا اترتا ہے۔ آپ لاوجود ہونے کی ایک بھی ایسی صفت نہیں ڈھونڈ سکتے جو اس وقت اس قانون میں نہ ہو، اور وجود کی ایک بھی ایسی سائنسی صفت نہیں بتا سکتے جو اس میں ہو۔ اس کے باوجود اسے 'عقل کی بات' سمجھا جاتا ہے کہ وہ قانون تب بھی موجود تھا۔"

جان بولا، "میرا خیال ہے مجھے اس بارے میں سوچنا پڑے گا۔"

"اچھا، میری پیش گوئی یہ ہے کہ اگر تم نے اس پر کافی دیر تک سوچا، تو تم بس گول گول گھومتے رہو گے یہاں تک کہ آخر کار صرف ایک ہی ممکنہ، عقلی اور دانش مندانہ نتیجے پر پہنچو گے۔ وہ یہ کہ اسحاق نیوٹن سے پہلے نہ کششِ ثقل کا قانون موجود تھا اور نہ ہی خود کششِ ثقل۔ اس کے علاوہ کوئی اور بات منطقی لگ ہی نہیں سکتی۔"

"اور اس کا مطلب یہ ہے،" میں نے اس سے پہلے کہ وہ میری بات کاٹ سکے کہا، "اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کششِ ثقل کا وہ قانون لوگوں کے دماغوں کے سوا کہیں اور موجود ہی نہیں ہے! یہ ایک بھوت ہے! ہم سب دوسروں کے بھوتوں کا مذاق اڑانے میں تو بہت مغرور اور خود پسند بنتے ہیں، لیکن اپنے بھوتوں کے معاملے میں ہم خود اتنے ہی جاہل، غیر مہذب اور وہم پرست ہیں۔"

"تو پھر ہر کوئی کششِ ثقل کے قانون پر یقین کیوں رکھتا ہے؟"

"اجتماعی ہپناٹزم کی وجہ سے۔ ایک انتہائی روایتی شکل میں جسے 'تعلیم' کہا جاتا ہے۔"

"تمہارا مطلب ہے کہ استاد بچوں کو ہپناٹائز کر کے کششِ ثقل کے قانون پر یقین دلاتا ہے؟"

"بالکل۔"

"یہ تو بڑی لغو بات ہے۔"

"تم نے کلاس روم میں 'آئی کانٹیکٹ' (نظریں ملانے) کی اہمیت کے بارے میں تو سنا ہوگا؟ ہر ماہرِ تعلیم اس پر زور دیتا ہے، لیکن کوئی ماہرِ تعلیم اس کی وجہ بیان نہیں کرتا۔"

جان نے نفی میں سر ہلایا اور میرے لیے ایک اور ڈرنک ڈالی۔ پھر اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اور مذاقاً ایک طرف ہو کر سلویا سے کہا، "تمہیں معلوم ہے، اکثر اوقات تو یہ بالکل نارمل آدمی لگتا ہے۔"

میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، "کئی ہفتوں بعد یہ پہلی نارمل بات ہے جو میں نے کہی ہے۔ باقی سارا وقت تو میں تمہاری طرح بیسویں صدی کے اس پاگل پن کا ڈھونگ رچا رہا ہوتا ہوں تاکہ لوگوں کی توجہ مجھ پر نہ پڑے۔"

"لیکن میں تمہارے لیے یہ بات دہرا دیتا ہوں،" میں نے کہا۔ "ہم یہ مانتے ہیں کہ سر اسحاق نیوٹن کے یہ بے جسم الفاظ ان کی پیدائش سے اربوں سال پہلے ہی خلا میں کہیں موجود تھے اور انہوں نے جادوئی طور پر ان الفاظ کو دریافت کر لیا۔ وہ الفاظ ہمیشہ سے وہیں تھے، چاہے تب وہ کسی چیز پر لاگو بھی نہ ہوتے ہوں۔ پھر رفتہ رفتہ یہ دنیا وجود میں آئی اور وہ اس پر لاگو ہونے لگے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان الفاظ ہی نے اس دنیا کو تشکیل دیا۔ جان، یہ بات کتنی مضحکہ خیز ہے۔"

"سائنسدان جس مسئلے اور تضاد میں الجھے ہوئے ہیں، وہ 'ذہن' کا مسئلہ ہے۔ ذہن کا نہ تو کوئی مادہ ہے اور نہ ہی توانائی، لیکن وہ اپنے ہر عمل پر اس کے غلبے سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ منطق ذہن میں بستی ہے، اور اعداد کا وجود بھی صرف ذہن ہی میں ہے۔ جب سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ بھوت محض انسانی ذہن کی پیداوار ہیں، تو مجھے برا نہیں لگتا۔ مجھے تو اس 'محض' پر اعتراض ہے۔ سائنس بھی تو آپ کے ذہن ہی میں ہے، مگر اس سے نہ تو سائنس کی اہمیت کم ہوتی ہے اور نہ ہی بھوتوں کی۔"

وہ بس خاموشی سے مجھے دیکھ رہے تھے، چنانچہ میں نے اپنی بات جاری رکھی: "قدرت کے قوانین انسانی ایجادات ہیں، بالکل بھوتوں کی طرح۔ منطق اور ریاضی کے اصول بھی بھوتوں ہی کی طرح انسان نے خود گھڑے ہیں۔ یہ پوری بساط انسانی ایجاد ہے، یہاں تک کہ یہ خیال بھی کہ یہ سب انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ انسانی تخیل سے باہر اس دنیا کی سرے سے کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ یہ سب ایک بھوت ہے، اور قدیم زمانے میں اس پوری دنیا کو، جس میں ہم بستے ہیں، ایک بھوت ہی مانا جاتا تھا۔

اس دنیا کا نظام بھوت ہی چلا رہے ہیں۔ ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ اس لیے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ بھوت ہمیں دکھاتے ہیں؛ موسیٰ، عیسیٰ اور بدھ کے بھوت، افلاطون، ڈیکارٹ، روسو، جیفرسن اور لنکن کے بھوت—اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسحاق نیوٹن ایک بہت زبردست بھوت ہے، بہترین بھوتوں میں سے ایک۔ آپ جسے 'عقلِ سلیم' کہتے ہیں، وہ ماضی کے ان ہزاروں لاکھوں بھوتوں کی آوازوں کے سوا کچھ نہیں۔ بھوت ہی بھوت؛ وہ بھوت جو زندوں کی محفل میں اپنا مقام تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"


باب ششم 


'بنیادی ہیئت' کی دنیا بحث کا ایک انوکھا موضوع ہے، کیونکہ یہ دراصل خود بحث کا ایک انداز بھی ہے۔ آپ چیزوں پر یا تو ان کے فوری ظاہری روپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں یا پھر ان کی پوشیدہ ساخت کے تناظر میں؛ اور جب آپ بحث کے ان طریقوں ہی کو موضوعِ بحث بناتے ہیں، تو آپ ایک ایسے مخمصے میں الجھ جاتے ہیں جسے 'پلیٹ فارم کا مسئلہ' کہا جا سکتا ہے۔ آپ کے پاس ان پر گفتگو کرنے کے لیے خود ان طریقوں کے علاوہ کوئی اور پلیٹ فارم یا بنیاد میسر نہیں ہوتی۔

پہلے میں اس کی 'بنیادی ہیئت' کی دنیا پر—یا کم از کم اس کے اس حصے پر جسے ٹیکنالوجی کہتے ہیں—ایک بیرونی زاویے سے بات کر رہا تھا۔ اب میرا خیال ہے کہ اس دنیا کے بارے میں خود اسی کے نقطہ نظر سے بات کرنا بہتر ہوگا۔ میں خود 'بنیادی ہیئت کی دنیا' کی اپنی 'بنیادی ہیئت' پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک 'ثنویت' یا دو حصوں میں تقسیم ضروری ہے، لیکن اس سے پہلے کہ میں پورے خلوص کے ساتھ اسے استعمال کروں، مجھے تھوڑا پیچھے مڑ کر یہ بتانا ہوگا کہ یہ ہے کیا اور اس کا مطلب کیا ہے؛ اور یہ بذاتِ خود ایک طویل داستان ہے۔ یہ اسی 'پیچھے مڑ کر دیکھنے' والے مسئلے کا ایک حصہ ہے۔ لیکن فی الحال میں صرف اس تقسیم کو استعمال کرنا چاہتا ہوں اور اس کی وضاحت بعد میں کروں گا۔ میں انسانی سمجھ بوجھ کو دو قسموں میں بانٹنا چاہتا ہوں: کلاسیکی فہم اور رومانوی فہم ۔

حتمی سچائی کے اعتبار سے اس طرح کی تقسیم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، لیکن جب کوئی شخص اس 'کلاسیکی انداز' میں کام کر رہا ہو جو کسی چیز کی بنیادی ہیئت کو دریافت کرنے یا تخلیق کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تو یہ تقسیم بالکل جائز ٹھہرتی ہے۔ 'کلاسیکی' اور 'رومانوی' کی اصطلاحات فیڈرس نے جس معنوں میں استعمال کی ہیں، وہ کچھ یوں ہیں:

ایک کلاسیکی فہم رکھنے والا دنیا کو بنیادی طور پر اس کی 'پوشیدہ ساخت' یا اصل ہیئت کے طور پر دیکھتا ہے۔ جبکہ رومانوی فہم اسے بنیادی طور پر اس کے 'فوری ظاہری روپ' کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ اگر آپ کسی رومانوی مزاج شخص کو کوئی انجن، کسی مشین کا ڈرائنگ نقشہ یا الیکٹرانک سرکٹ دکھائیں، تو اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ اسے اس میں کوئی خاص دلچسپی محسوس ہو۔ اس کے لیے اس میں کوئی کشش نہیں ہوتی کیونکہ اسے جو حقیقت نظر آتی ہے وہ محض اس کی 'سطح' ہے۔ اسے وہ سب بے جان اور پیچیدہ ناموں، لکیروں اور نمبروں کی فہرستیں لگتی ہیں جن میں کوئی دلچسپی کی بات نہیں۔ لیکن اگر وہی نقشہ یا خاکہ آپ کسی کلاسیکی فہم رکھنے والے شخص کو دکھائیں، تو وہ اسے دیکھ کر سحر زدہ ہو سکتا ہے؛ کیونکہ اسے نظر آتا ہے کہ ان لکیروں، شکلوں اور علامتوں کے اندر 'بنیادی ہیئت' کی ایک زبردست وسعت اور گہرائی چھپی ہوئی ہے۔

رومانوی انداز بنیادی طور پر وجدانی، تخیلاتی، تخلیقی اور الہامی ہوتا ہے۔ یہاں حقائق کے بجائے احساسات غالب ہوتے ہیں۔ جب 'فن' کو 'سائنس' کے مدمقابل لایا جاتا ہے، تو اکثر اس سے مراد یہی رومانوی انداز ہوتا ہے۔ یہ عقل یا قوانین کے سہارے آگے نہیں بڑھتا، بلکہ احساس، وجدان اور جمالیاتی حس کے ذریعے اپنا راستہ بناتا ہے۔ شمالی یورپی ثقافتوں میں رومانوی انداز کو عام طور پر 'نسوانیت' سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن یہ کوئی لازمی وابستگی نہیں ہے۔

اس کے برعکس، کلاسیکی انداز عقل اور قوانین کے سہارے آگے بڑھتا ہے... جو بذاتِ خود فکر اور عمل کی پوشیدہ ساختیں ہیں۔ یورپی ثقافتوں میں یہ بنیادی طور پر ایک مردانہ انداز ہے، اور سائنس، قانون اور طب جیسے شعبے خواتین کے لیے زیادہ پرکشش نہ ہونے کی بڑی وجہ بھی غالباً یہی ہے۔ اگرچہ موٹر سائیکل چلانا ایک رومانوی عمل ہے، لیکن اس کی دیکھ بھال خالصتاً کلاسیکی ہے۔ وہ مٹی، گریس اور اس پوشیدہ ساخت پر مہارت حاصل کرنے کی ضرورت؛ یہ سب مل کر اسے رومانوی طور پر اتنا ناپسندیدہ بنا دیتے ہیں کہ خواتین اس کے قریب بھی نہیں جاتیں۔

اگرچہ کلاسیکی طرزِ فہم میں اکثر ظاہری بدصورتی دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ اس کی جبلت کا حصہ نہیں ہے۔ ایک 'کلاسیکی جمالیات' بھی ہوتی ہے، جسے رومانوی مزاج لوگ اس کی نفاست اور باریکی کی وجہ سے اکثر دیکھ نہیں پاتے۔ کلاسیکی اسلوب بالکل سیدھا سادہ، بناوٹ سے پاک، جذبات سے عاری، کفایت شعارانہ اور انتہائی متناسب ہوتا ہے۔ اس کا مقصد جذباتی طور پر متاثر کرنا نہیں، بلکہ افراتفری سے نظم و ضبط پیدا کرنا اور نامعلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یہ جمالیاتی طور پر کوئی آزاد یا فطری انداز نہیں ہے، بلکہ جمالیاتی اعتبار سے ایک خاص ضبط میں رہتا ہے۔ یہاں ہر چیز قابو میں ہوتی ہے، اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ اس مہارت سے لگایا جاتا ہے جس کے ساتھ اس ضبط کو برقرار رکھا گیا ہو۔

ایک رومانوی شخص کے لیے یہ کلاسیکی انداز اکثر بے جان، بھونڈا اور بدصورت لگتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی مشین کی مرمت کا کام۔ یہاں ہر چیز کا انحصار پرزوں، حصوں، اجزاء اور ان کے باہمی تعلقات پر ہوتا ہے۔ جب تک کسی چیز کو درجنوں بار کمپیوٹر سے نہ گزار لیا جائے، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاتا۔ ہر بات کا ناپا جانا اور ثابت ہونا ضروری ہے۔ ایک جبر۔ ایک بوجھ۔ لامتناہی دھندلا پن۔ موت کی طاقت۔

تاہم، کلاسیکی نقطہ نظر سے دیکھیں تو رومانوی مزاج کے اپنے کچھ مخصوص روپ سامنے آتے ہیں۔ ایک ایسا انسان جو چھچھورا، غیر عقلی، من موجی، ناقابلِ اعتبار اور صرف اپنی لذت کا متلاشی ہو۔ ایک سطحی اور بے مغز شخصیت۔ اکثر ایک ایسا طفیلی جو اپنا بوجھ خود نہیں اٹھا سکتا یا اٹھانا نہیں چاہتا؛ معاشرے کے لیے ایک حقیقی رکاوٹ۔ اب تک جنگ کی یہ صف بندیاں آپ کو کچھ جانی پہچانی لگ رہی ہوں گی۔

اصل مصیبت کی جڑ یہی ہے۔ لوگ عموماً یا تو صرف ایک ہی انداز میں سوچتے اور محسوس کرتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے وہ دوسرے فریق کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں اور اسے بہت معمولی جانتے ہیں۔ مگر کوئی بھی اپنی اس سچائی کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جسے وہ دیکھ رہا ہے، اور جہاں تک میں جانتا ہوں، آج کے دور میں ایسا کوئی نہیں جس نے ان دونوں حقائق یا اندازِ فکر کے درمیان کوئی حقیقی مفاہمت پیدا کی ہو۔ حقیقت کو دیکھنے کے ان دونوں زاویوں میں ایسا کوئی مقام نہیں جہاں یہ ایک ہو سکیں۔

چنانچہ حالیہ دور میں ہم نے کلاسیکی کلچر اور ایک رومانوی 'جوابی کلچر' کے درمیان ایک گہری خلیج بنتے دیکھی ہے... دو ایسی دنیایں جو ایک دوسرے سے بیگانہ اور نفرت میں مبتلا ہوتی جا رہی ہیں، جبکہ ہر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ کیا ہمیشہ ایسا ہی رہے گا—ایک ہی گھر جو آپس ہی میں تقسیم ہو چکا ہے۔ درحقیقت اسے کوئی بھی نہیں چاہتا... چاہے دوسری طرف کھڑے اس کے مخالفین کچھ بھی کیوں نہ سوچتے ہوں۔

اسی تناظر میں فیڈرس کی سوچ اور اس کی کہی ہوئی باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ مگر اس وقت کوئی اسے سننے والا نہیں تھا؛ پہلے لوگوں نے اسے صرف سنکی سمجھا، پھر ناپسندیدہ، پھر تھوڑا خبطی اور آخر کار اسے واقعی پاگل قرار دے دیا گیا۔ اس میں تو شاید کوئی شک نہیں کہ وہ ذہنی توازن کھو چکا تھا، مگر اس وقت کی اس کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ اسے پاگل پن کی طرف دھکیلنے والی چیز دراصل لوگوں کی یہی معاندانہ رائے تھی۔ غیر معمولی رویہ دوسروں میں بیگانگی پیدا کرتا ہے، جو اس رویے کو مزید بڑھاوا دیتی ہے اور یوں دوری کا یہ چکر خود بخود چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ نوبت انتہا تک پہنچ جائے۔ فیڈرس کے معاملے میں یہ انتہا عدالتی حکم پر پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اور اسے معاشرے سے مستقل طور پر الگ کیے جانے کی صورت میں نکلی۔

……………………………..

اس کی اس طرزِ عقلیت کو قدیم زمانے سے اپنے ارد گرد کے ماحول کی اکتاہٹ اور افسردگی سے چھٹکارا پانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسے سمجھنا اس لیے مشکل ہے کہ جس چیز کو کبھی 'ہر شے' سے جان چھڑانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا، وہ فرار اس قدر کامیاب ثابت ہوا کہ اب یہی وہ 'سب کچھ' بن چکا ہے جس سے رومانوی مزاج لوگ پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی دنیا کو واضح طور پر دیکھنا اس کے انوکھے پن کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے حد سے زیادہ 'معمول' بن جانے کی وجہ سے مشکل ہے۔ حد سے زیادہ شناسائی بھی انسان کو اندھا کر سکتی ہے۔

چیزوں کو دیکھنے کا اس کا یہ انداز ایک ایسی وضاحت پیش کرتا ہے جسے 'تجزیاتی تشریح' (analytic description) کہا جا سکتا ہے۔ یہ اس کلاسیکی پلیٹ فارم کا دوسرا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر انسان چیزوں پر ان کی بنیادی ہیئت (underlying form) کے حوالے سے بحث کرتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک کلاسیکی انسان تھا۔ اور یہ سب کچھ کیا ہے، اس کی مزید بہتر وضاحت کے لیے اب میں اس کے تجزیاتی اندازِ فکر کو خود اسی کی طرف موڑنا چاہتا ہوں... یعنی خود تجزیے کا ہی تجزیہ کرنا۔

میں ایسا سب سے پہلے اس کی ایک تفصیلی مثال دے کر کرنا چاہتا ہوں اور پھر یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ بذاتِ خود ہے کیا۔ موٹر سائیکل اس کے لیے ایک بہترین موضوع ہے کیونکہ موٹر سائیکل بذاتِ خود کلاسیکی ذہنوں کی ہی ایجاد ہے۔ تو سنیے:

کلاسیکی عقلی تجزیے کے مقصد کے لیے ایک موٹر سائیکل کو اس کے اجزاء کی ترتیب (component assemblies) اور اس کے افعال (functions) کی بنیاد پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اگر اسے اجزاء کی ترتیب کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے، تو اس کی سب سے بنیادی تقسیم 'پاور اسمبلی' اور 'رننگ اسمبلی' میں ہوگی۔

پاور اسمبلی کو مزید انجن اور طاقت کی منتقلی کے نظام (power-delivery system) میں بانٹا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے انجن کی بات کرتے ہیں۔

انجن ایک ایسے ڈھانچے (housing) پر مشتمل ہوتا ہے جس میں پاور ٹرین، ایندھن اور ہوا کا نظام (fuel-air system)، ایک اگنیشن سسٹم، ایک فیڈ بیک سسٹم اور لیوبریکیشن (تیل دینے کا) سسٹم موجود ہوتے ہیں۔

پاور ٹرین سلنڈروں، پسٹنوں، کنیکٹنگ راڈز، ایک کرینک شافٹ اور ایک فلائی وہیل پر مشتمل ہوتی ہے۔

انجن کا حصہ بننے والے 'ایندھن اور ہوا کے نظام' (fuel-air system) کے اجزاء پیٹرول کی ٹنکی اور فلٹر، ایئر کلینر، کاربوریٹر، والوز اور ایگزاسٹ پائپوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اگنیشن سسٹم ایک آلٹرنیٹر، ریکٹی فائر، بیٹری، ہائی وولٹیج کوائل اور اسپارک پلگوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

فیڈ بیک سسٹم ایک کیم چین، کیم شافٹ، ٹیپٹس اور ڈسٹری بیوٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔

لیوبریکیشن سسٹم (تیل کی فراہمی کا نظام) ایک آئل پمپ اور پورے ڈھانچے میں پھیلی ہوئی ان نالیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو تیل کی ترسیل کا کام کرتی ہیں۔

انجن کے ساتھ منسلک طاقت کی منتقلی کا نظام (power-delivery system) کلچ، ٹرانسمیشن اور چین پر مشتمل ہوتا ہے۔

پاور اسمبلی کے ساتھ منسلک وہ معاون ڈھانچہ (supporting assembly) جو فریم (بشمول فٹ پیگز، سیٹ اور فینڈرز)، اسٹیئرنگ اسمبلی، اگلے اور پچھلے شاک ایبزاربرز، پہیوں، کنٹرول لیورز اور کیبلز، لائٹس، ہارن اور اسپیڈ و مائلیج بتانے والے میٹرز پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ تو تھی پرزوں کے لحاظ سے موٹر سائیکل کی تقسیم۔ لیکن یہ جاننے کے لیے کہ یہ پرزے کس کام آتے ہیں، افعال کی بنیاد پر تقسیم ضروری ہے:

  • موٹر سائیکل کو عام چلنے والے افعال (normal running functions) اور چلانے والے کے قابو میں رہنے والے مخصوص افعال میں بانٹا جا سکتا ہے۔

  • عام چلنے والے افعال کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: انٹیک سائیکل، کمپریشن سائیکل، پاور سائیکل اور ایگزاسٹ سائیکل کے دوران ہونے والے افعال۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ میں ان افعال کی تفصیل بیان کر سکتا ہوں جو ان چاروں سائیکلز میں ایک خاص ترتیب سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، پھر ان افعال پر بات ہو سکتی ہے جو سوار کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ موٹر سائیکل کی بنیادی ہیئت (underlying form) کی یہ ایک نہایت مختصر اور ابتدائی تشریح ہوگی۔

اس طرح کی تشریحات میں ذکر کیے گئے تقریباً ہر پرزے پر لامتناہی بحث ہو سکتی ہے۔ میں نے صرف 'کانٹیکٹ پوائنٹس' پر انجینئرنگ کی ایک پوری کتاب پڑھی ہے، جو ڈسٹری بیوٹر کا ایک چھوٹا مگر انتہائی اہم حصہ ہوتے ہیں۔ یہاں بیان کیے گئے سنگل سلنڈر 'اوٹو انجن' کے علاوہ انجن کی اور بھی کئی اقسام ہیں: ٹو-سائیکل انجن، ملٹی سلنڈر انجن، ڈیزل انجن، وانکل انجن... مگر یہ مثال کافی ہے۔

یہ تشریح پرزوں کے لحاظ سے موٹر سائیکل کے 'کیا' (what) اور افعال کے لحاظ سے انجن کے 'کیسے' (how) کا احاطہ کرتی ہے۔ اسے اب بھی ایک تصویری خاکے کے ذریعے 'کہاں' (where) کے تجزیے کی ضرورت ہے، اور ان انجینئرنگ اصولوں کی صورت میں 'کیوں' (why) کی وضاحت بھی کی، جن کی بنیاد پر پرزوں کو یہ مخصوص شکل دی گئی۔

لیکن یہاں مقصد موٹر سائیکل کا مکمل تجزیہ کرنا نہیں ہے، بلکہ چیزوں کو سمجھنے کے ایک ایسے انداز (mode of understanding) کی مثال پیش کرنا ہے جو خود آگے چل کر تجزیے کا موضوع بنے گی۔

پہلی بار سننے میں اس تشریح میں یقیناً کچھ بھی عجیب نہیں لگتا۔ یہ اس موضوع پر کسی ابتدائی نصابی کتاب یا شاید کسی فنی کورس (vocational course) کے پہلے سبق جیسی معلوم ہوتی ہے۔ اس میں غیر معمولی بات تب نظر آتی ہے جب یہ گفتگو کا ذریعہ رہنے کے بجائے خود موضوعِ گفتگو بن جائے؛ تب چند مخصوص پہلوؤں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

اس تشریح کے بارے میں پہلی قابلِ مشاہدہ بات اس قدر واضح ہے کہ اسے (ذہن میں) دبا کر رکھنا پڑتا ہے، ورنہ یہ باقی تمام مشاہدات پر غالب آ جائے گی۔ اور وہ یہ ہے کہ: یہ حد درجہ خشک اور بیزار کن ہے۔ وہی بے جان سی تکرار—کاربوریٹر، گیئر ریشو، کمپریشن، پسٹن، پلگ، انٹیک اور پتا نہیں کیا کچھ، بس ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو چلتا ہی جا رہا ہے۔ کلاسیکی انداز کا رومانوی چہرہ یہی ہے: بیزار کن، بھونڈا اور بدصورت۔ بہت کم رومانوی مزاج لوگ اس مرحلے سے آگے بڑھ پاتے ہیں۔

لیکن اگر آپ اس انتہائی واضح مشاہدے کو تھوڑی دیر کے لیے ایک طرف رکھ سکیں، تو کچھ ایسی باتیں نظر آئیں گی جو شروع میں محسوس نہیں ہوتی تھیں۔ پہلی بات یہ کہ اس انداز میں بیان کی گئی موٹر سائیکل کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے، جب تک کہ آپ پہلے سے نہ جانتے ہوں کہ وہ کام کیسے کرتی ہے۔ وہ فوری ظاہری تاثرات جو ابتدائی سمجھ بوجھ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، وہ یہاں سے غائب ہو چکے ہیں۔ اب صرف 'بنیادی ہیئت' (underlying form) ہی باقی رہ گئی ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس میں مشاہدہ کرنے والا غائب ہے۔ یہ تشریح یہ نہیں بتاتی کہ پسٹن کو دیکھنے کے لیے آپ کو پہلے سلنڈر کا 'ہیڈ' اتارنا پڑے گا۔ اس پوری تصویر میں 'آپ' کا کہیں وجود نہیں۔ یہاں تک کہ اسے چلانے والا 'آپریٹر' بھی ایک ایسا بے جان سا روبوٹ ہے جس کا مشین پر ہر عمل محض میکانکی ہے۔ اس تشریح میں کوئی حقیقی جاندار کردار (subject) نہیں ہے؛ یہاں صرف وہ 'اشیاء' (objects) موجود ہیں جن کا کسی مشاہدہ کرنے والے سے کوئی تعلق نہیں۔

تیسری بات یہ کہ اس میں 'اچھا' اور 'برا' جیسے الفاظ اور ان کے تمام مترادفات سرے سے غائب ہیں۔ کہیں بھی کوئی قدر پیمائی (value judgment) نہیں کی گئی، بلکہ صرف اور صرف حقائق بیان کیے گئے ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ یہاں ایک چھری چل رہی ہے۔ ایک نہایت مہلک چھری؛ ذہنی جراحی کا ایک ایسا نشتر (intellectual scalpel) جو اس قدر تیز رفتار اور دھار دار ہے کہ کبھی کبھار آپ کو اس کی حرکت نظر بھی نہیں آتی۔ آپ کو یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ تمام پرزے بس وہیں موجود ہیں اور انہیں ویسے ہی بیان کیا جا رہا ہے جیسے وہ ہیں، لیکن اس چھری کی حرکت کے رخ کے حساب سے ان کے نام اور ان کی ترتیب بالکل مختلف بھی ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر، یہ 'فیڈ بیک سسٹم'—جس میں کیم شافٹ، کیم چین، ٹیپٹس اور ڈسٹری بیوٹر شامل ہیں—صرف اس لیے وجود رکھتا ہے کیونکہ اس 'تجزیاتی نشتر' (analytic knife) نے اسے ایک خاص اور انوکھے انداز میں کاٹا ہے۔ اگر آپ موٹر سائیکل کے پرزوں والی کسی دکان پر جائیں اور ان سے 'فیڈ بیک اسمبلی' مانگیں، تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آئے گا کہ آپ آخر کس بلا کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ پرزوں کو اس طرح حصوں میں نہیں بانٹتے۔ کوئی سے دو کارخانہ دار اسے ایک ہی طریقے سے تقسیم نہیں کرتے، اور ہر مکینک اس مسئلے سے بخوبی واقف ہے کہ کبھی آپ کو کوئی پرزہ اس لیے نہیں مل پاتا کیونکہ آپ اسے ڈھونڈ ہی نہیں پاتے—اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بنانے والے نے اسے کسی اور بڑے حصے کا جزو قرار دے رکھا ہوتا ہے۔

ضروری یہ ہے کہ اس چھری کی اصل حقیقت کو سمجھا جائے اور اس دھوکے میں نہ رہا جائے کہ موٹر سائیکل یا کوئی بھی دوسری چیز محض اس لیے ویسی ہے کیونکہ اس چھری نے اتفاقاً اسے اس طرح کاٹا ہے۔ اصل توجہ خود اس چھری پر ہونی چاہیے۔ آگے چل کر میں یہ دکھانا چاہوں گا کہ اس چھری کو تخلیقی اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت کس طرح 'کلاسیکی' اور 'رومانوی' خلیج کو پاٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

فیڈرس اس نشتر کو چلانے کا ماہر تھا، اور وہ اسے بڑی چابکدستی اور بھرپور قوت کے ساتھ استعمال کرتا تھا۔ تجزیاتی سوچ کی محض ایک ضرب سے وہ پوری دنیا کو اپنی مرضی کے حصوں میں بانٹ دیتا تھا؛ پھر ان حصوں کے مزید ٹکڑے کرتا اور ان ٹکڑوں کے ریشے ریشے الگ کرتا جاتا، یہاں تک کہ وہ اس شے کو بالکل اس شکل میں لے آتا جیسا وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ 'کلاسیکی' اور 'رومانوی' کی اصطلاحات کا یہ مخصوص استعمال بھی اس کی 'نشتر زنی' (knifemanship) ہی کی ایک مثال ہے۔

لیکن اگر اس میں صرف یہی ایک خوبی ہوتی—یعنی تجزیاتی مہارت—تو میں بخوشی اس کے بارے میں خاموش رہتا۔ مگر اس کے متعلق خاموش نہ رہنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ اس نے اس فن کو ایک نہایت ہی انوکھے اور بامعنی انداز میں استعمال کیا۔ کسی نے بھی کبھی اس پر توجہ نہیں دی، میرا نہیں خیال کہ خود اسے بھی اس کا ادراک تھا، اور ہو سکتا ہے کہ یہ میرا اپنا ہی ایک مغالطہ ہو، لیکن وہ جس 'نشتر' کو استعمال کر رہا تھا، وہ کسی قاتل کی چھری کے بجائے ایک بے بس جراح (surgeon) کے نشتر سے زیادہ مشابہ تھا۔

شاید ان دونوں میں کوئی فرق ہی نہ ہو۔ لیکن اسے ایک بگڑتی ہوئی صورتحال، ایک بیماری دکھائی دے رہی تھی اور اس کی جڑ تک پہنچنے کے لیے اس نے گہرے سے گہرا کٹ لگانا شروع کر دیا۔ وہ کسی خاص چیز کی کھوج میں تھا۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ وہ کسی مقصد کے پیچھے تھا اور اس نے اس نشتر کو اس لیے استعمال کیا کیونکہ اس کے پاس بس یہی ایک راستہ (اوزار) تھا۔ مگر اس نے ذمہ داری اتنی زیادہ لے لی اور وہ اس راستے پر اتنا دور نکل گیا کہ آخر کار اس کا اپنا آپ ہی اس کا شکار بن گیا۔




No comments:

Post a Comment