Wednesday, 10 January 2018

گوریاں ڈیݨاں


گورِیاں ڈیݨاں چُڑیلاں دے مقدمے۔ پنجابی
(ݨ= ں + ڑں)
از
ٹیپو سلمان مخدوم
اے مضمون برطانیہ دے مشہور روزوار اخبار گارڈیئن چ  چھپے مضمون توں ماخوذ اے۔ اصل انگریزی مضمون دا ناں تے ویب ایڈریس اے جے:
Why Europe’s wars of religion put 40,000 ‘witches’ to a terrible death۔By Jamie Doward۔Sun 7 Jan 2018


مضمون:
ہندوستان وچ مغل دور دے عروج دے زمانے وِچ اِک پاسے اکبرِ اعظم دا رتن راجہ ٹوڈرمَل صدیاں تیکر چلݨ والا مُعاشی نِظام بݨا رہیا سی تے دوجے پاسے شاجہاں تاج محل بݨوا رہیا سی۔ تے ایسے  دَور وِچ یورپ چ ڈیݨاں تے چُڑیلاں نوں جیوندے جاݨ ساڑن دا کَم عروج تے سی۔ ١٥٥٠ توں لے کے ١٧٠٠ عیسویں دی ڈُوڈھ صدی وِچ یورپ وِچ گھٹو گھٹ اَسی ہزار(٨٠،٠٠٠)  لوکاں نوں جیوندے جاݨ ایس اِلزام وِچ ساڑ دِتا گیا بئی او ڈیݨ نیں یا فیر ڈیݨا دے نال نیں۔ ایس کَم لئی پورا مقدمہ ہوندا تے گواہاں تے ثبوتاں دی روشنی وِچ زنانیاں نوں ڈیݨا کہہ کے عدالت تے حُکم توں پھائے لا دِتا جاندا یا فیر جیوندے جاݨ ای ساڑیاں جاندا۔

Wednesday, 3 January 2018

قانون کا طریق کار- اصول قانون

از
ٹیپو سلمان مخدوم 
اولیور وینڈل ہومز کے  مشہورِ زمانہ مضمون دی پاتھ آف لاء سے   ماخوذ

کچھ ہومز کے بارے میں:
اولیور  وینڈل ہومز جونیئر (۱۸۴۱ سے ۱۹۳۵) بیسویں صدی کے شاید سب سے اہم  امریکی فلسفیٔ قانون تھے۔  اُن کا مضمون  دہ پاتھ آف لاء، جو کہ ۱۸۹۸ میں چھپا، امریکی فلسفۂ قانون میں مرکزی اہمیت کی حامل تحریر سمجھا جاتا ہے۔ اِس تحریر میں ہی ہومز نے پرانےتمام برطانوی نژاد نظریوں سے تعلق توڑ کر نئی جہتوں میں سفر کا آغاز کیا اور اِس طرح سے جدید امریکی فلسفۂ قانون کی بنیاد رکھی۔

Friday, 20 October 2017

حرمت : کہانی


 از
ٹیپو سلمان مخدوم



پچاس سالہ اشرف موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ڈول رہا تھا۔ اسے سب کچھ دھندلا دھندلا سا نظر آ رہا تھا۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دنیا کو اپنی بیوی کی آنسو بھری آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ ہارن کی آوازوں کی جگہ اس کے کانوں میں آنند بخشی کا یہ گیت بج رہا تھا:
میں اس دنیا کو اکثر دیکھ کر حیران ہوتا ہوں،
نہ مجھ سے بن سکا چھوٹا سا گھر، دن رات روتا ہوں،
خدایا! تو نے کیسے یہ جہاں سارا بنا ڈالا۔

Wednesday, 27 September 2017

آخر جمہوری نظام ہی کیوں؟ : اصول قانون

از
ٹیپو سلمان مخدوم


آخر جمہوری نظام ہی کیوں؟ یہ سوال اکثر سننے میں آتا ہے۔ اور سوچ پر بھی مجبور کرتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس نظام کے ذریعے جو بھی گروہ ہم پر حکمران بنتا ہے اس میں بہت سے چور، لٹیرے، جاہل اور بدکردار لوگ شامل ہوتے ہیں۔ جب بھی انتخابات ہوتے ہیں اور جس بھی سیاسی جماعت کی حکومت بنتی ہے ہمیں یہی شکایت ہوتی ہے۔ تو پھر ہم یہ نظام بدل کیوں نہیں دیتے؟

Monday, 25 September 2017

تھائی ہیجڑا : کہانی


از
ٹیپو سلمان مخدوم


وہ ایک تھائی ہیجڑا تھا۔ مجھے اس کی جو چیز سب سے واضع طور پر یاد ہے وہ اس کی ٹک ٹک پر مجھ سے بچھڑتے ہوئے کی مسکراہٹ ہے۔ اس وقت ہم دونوں روئے تھے۔ وہ اب بھی یہی سمجھتا ہو گا کہ صرف وہ رویا تھا، مگر حقیقت میں میں بھی رو پڑا تھا۔

Thursday, 21 September 2017

ترکی مٹھائی: کہانی



از
ٹیپو سلمان مخدوم



گھر کے اندر  داخل ہوتے ہی اس کی نظر پورچ کے کونے میں پڑے پندرہ سو روپے والے چینی بیگ پر پڑی جو وہ ترکی سے پچاس لیرے کا لایا تھا۔ گاڑی سے اترتے ہی وہ مچل کر بیگ کی طرف بڑھا اور یہ دیکھ کر تڑپ کر رہ گیا کہ بیگ میں بہت سے کاڈے مٹر گشت کر رہے تھے۔ اس نے غصے سے گیٹ کھولنے والے ملازم سے پوچھا کہ بیگ میں کیڑے کیوں پھر رہے ہیں؟ جواب سے پہلے اندر سے بیگم نکل آ ئی۔

Wednesday, 26 July 2017

سندھوستان: کہانی

از
ٹیپو سلمان مخدوم

دبئی کے ایئرپورٹ پر تلاشیاں وغیرہ دے کر فارغ ہوا تو بوریت سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کنکٹنگ فلائٹ چار گھنٹے بعد تھی۔ دن کے دو بج رہے تھے، ہر طرف ہڑبونگ اور شور شرابا مچا ہوا تھا۔ اچانک میری نظر اس پرکشش عورت پر پڑی جسے میں جہاز میں بھی دیکھ چکا تھا۔ وہ اکیلی بیٹھی تھی۔ اچھا تو وہ جو گنجا موٹا اس کے ساتھ بیٹھا تھا وہ اس کے ساتھ نہیں تھا۔ تیس سال کی متناسب بدن کی یہ سانولی عورت جینز پہنے اور بندی لگائےبیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ آس پاس کی کرسیاں خالی دیکھ کر میں نے ہمت کی اور ایک کرسی چھوڑ کر ساتھ بیٹھ گیا۔

Monday, 24 July 2017

قیمت: کہانی


 از
ٹیپو سلمان مخدوم



یوں تو پاکستان میں بھی اب جہاز ٹنل سے لگ جاتے ہیں مگر اس کے امریکی  جہاز کو ٹنل مہیا نہ کی گئی۔ ایسا کچھ اگر امریکہ میں ہوا ہوتا  تو وہ  آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ اب اسے امریکی شہری ہوئے بیس برس ہو چکے تھے، امریکہ اب اس کے روم روم میں تھا۔ مگر پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں یہ سب وہ معمول سمجھتا تھا، گو کہ پچیس برس بعد لوٹ رہا تھا۔ آنے کا اس کا کوئی ارادہ تو نہیں تھا مگر نوجوان بھتیجے کی ناگہانی موت نے اسے کچھ دنوں کے لئے ہی سہی، بھائی کا سہارا بننے پر مجبور کر دیا تھا۔ جنازے پر نا بھی پہنچ سکا تو کوئی بات نہیں، چار دن بعد ہی سہی۔ اوپر  سے جہاز صبح کے چار بجے ہی لاہور اتر آیا تھا۔

Friday, 21 July 2017

مٹی: کہانی


از
ٹیپو سلمان مخدوم



م اور ع کمرے میں داخل ہوئے اور آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ دونوں نے سگریٹ سلگا لئے۔ م نے دونوں پاوں میز پر رکھ دیئے۔ ع نے اپنے پاوں م کی رانوں پر رکھ لئے۔

م بولا: ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ میں اپنا زکام ٹھیک کرنےکے لئے بے بانگے چوزے کی یخنی پیوں؟
ع بولی: حکیم کہتے ہیں، اور میرے خیال سے ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ دیسی چوزے کی یخنی میں بڑی گرمی اور طاقت ہوتی ہے۔ زکام ٹھیک کر دے گی۔

م نے غصہ سے ع کو گھورا: تمہیں پتا ہے تم کیا کہ رہی ہو؟ اپنی ایک وقتی اور معمولی سی بیماری ٹھیک کرنے کےلئے میں ایک بچے، ایک چھوٹے بچے کی گردن پر چھری پھیروں تاکہ اس کا سارا خون بہہ جائے اور پھر اس کے بدن سے کھال کھینچ کر، اس کی انتڑیاں نکال کر اس کے مردہ جسم کو آگ پر رکھے پانی میں ابالوں؟ میں انسان ہوں کہ وحشی درندہ؟

ع ذرا سنبھل کر بولی: اب تم عجیب و غریب باتیں نہ کرو۔ مرغی کے چوزے اور بچے کو مت ملاو۔

Monday, 3 July 2017

بے غیرت کتے : کہانی


از

ٹیپو سلمان مخدوم




وہ ایک کتا تھا۔ بے غیرت اس لئے تھا کہ اپنی بہن کے ساتھ سوتا تھا۔ کیا کہا جا سکتا ہے، جانور تھا کوئی ذات دھرم کو ماننے والا تو تھا نہیں۔ نہ کوئی اصول نہ شرم و حیا۔ اسے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بھائی یہ بے غیرتیاں تمہارے جنگل میں بے شک معمول ہوں گی مگر یہ جنگل نہیں مہذب معاشرہ ہے۔ نہ ہی اسے سائنس کی منطق سے قائل کیا جا سکتا تھا کہ ایسے عمل سے اجتناب کرو ورنہ اگلی نسلوں میں موروثی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، ہماری کزن میرج نہیں دیکھتے؟